سندھ، بلوچستان کے پسماندہ علاقوں کیلئے ہائی سپیڈ براڈ بینڈ سروسز کا اجراء

ہائی سپیڈ براڈ بینڈ سروسز سے بلوچستان اور سندھ کے پسماندہ علاقے بھی استفادہ کر سکیں گے، وزیر اعظم کا تقریب سے خطاب

219

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک کا روشن مستقبل ڈیجیٹل پاکستان سے وابستہ ہے، آئی ٹی کے شعبہ میں نوجوانوں کو مواقع دے کر ان کی صلاحیتوں سے استفادہ کیا جا سکتا ہے اور برآمدات بھی بڑھائی جا سکتی ہیں۔

ان خیالات اکا اظہار وزیر اعظم نے یونیورسل سروس فنڈ کی جانب سے کنٹریکٹ ایوارڈز کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس کنٹریکٹ سے ہائی سپیڈ براڈ بینڈ سروسز سے بلوچستان اور سندھ کے پسماندہ علاقے بھی استفادہ کر سکیں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ یونیورسل سروس فنڈ یوفون اور جاز کے مابین یہ معاہدہ انتہائی خوش آئند ہے۔ ہماری حکومت پیچھے رہ جانے والے طبقات اور علاقوں کی ترقی کیلئے اقدامات کر رہی ہے، اس معاہدہ سے سندھ کے گھوٹکی اور سکھر جیسے اور بلوچستان کے پسماندہ علاقے جہاں بہت غربت اور وسیع رقبہ ہے، استفادہ کر سکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ان علاقوں کو ماضی میں نظر انداز کیا گیا، بلوچستان میں سوئی کا علاقہ جہاں سے پورے پاکستان کو گیس سپلائی کی جاتی ہے، خود ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ گیا، بعض علاقے جب ترقی کی دوڑ میں پیچھے جاتے ہیں تو اس کے خراب اثرات سارے معاشرے کو متاثر کرتے ہیں، دنیا میں ملکوں کے مابین بھی جب امارت اور غربت میں فرق بہت زیادہ ہو تو اس سے سنگین مسائل جنم لیتے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ غیر مساوی اور غیر منصفانہ ترقی معاشرہ کو متاثر کرتی ہے، پاکستان میں ایک چھوٹے طبقہ کیلئے مراعات دی گئیں، ان کیلئے انگلش میڈیم سکول بنائے گئے جبکہ اردو میڈیم اور مدارس کے بچوں کو نظر انداز کیا گیا، انگلش میڈیم سکولوں کی دکانیں کھلتی چلی گئیں جبکہ معاشرہ کے اکثریتی طبقہ کو نظر انداز کر دیا گیا۔

عمران خان نے کہا کہ پاکستان 60ء کی دہائی میں تیزی سے ترقی کرتا ہوا ملک تھا، جنوبی کوریا، سنگاپور اور ملائیشیا جیسے ملک بھی ہم سے آج ترقی میں آگے نکل گئے جبکہ ہم پیچھے رہ گئے کیونکہ پاکستان میں صرف ایک چھوٹے اور ایلیٹ طبقہ کیلئے سوچا گیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ سرکاری ہسپتالوں اور سکولوں کا نظام بہترین تھا لیکن رفتہ رفتہ سرکاری ہسپتال اور سکول صرف غریبوں کیلئے رہ گئے اور ایلیٹ کلاس کیلئے الگ نظام وجود میں آ گیا۔

انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے پسماندہ علاقوں میں رابطوں کو بہتر بنانے کے بارے میں سوچا کیونکہ اس سے عوام کے معیار زندگی کو بہتر بنایا جا سکتا ہے اور انہیں ترقی کی دوڑ میں شامل کیا جا سکتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ گلگت بلتستان میں قراقرم ہائی وے کی تعمیر سے علاقے کو ترقی ملی، نگر اور ہنزہ جیسے علاقے جن کا دنیا سے کوئی رابطہ استوار نہیں تھا ان کا دنیا سے رابطہ استوار ہوا، رابطوں کے بہتر ہونے سے صحت و تعلیم سمیت تمام سہولیات آتی ہیں اور سماجی زندگی بھی بہتر ہوتی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ موبائل فون کے ذریعے لوگوں کی زندگی میں بہتری لائی جا سکتی ہے، اب ٹیکنالوجی کا دور ہے جو دن بدن مزید ترقی کر رہی ہے، فورجی اور فائیو جی سے معاشرہ پر بڑے اثرات مرتب ہوں گے، ایسے علاقے جہاں سکول نہیں کھولے جا سکتے وہاں ورچوئل سسٹم کے ذریعے استفادہ کیا جا سکتا ہے، ایسے علاقے جنہیں ماضی میں نظر انداز کیا گیا اور وہ ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے وہاں مواقع فراہم کئے جائیں گے۔

عمران خان نے کہا کہ ڈیجیٹل پاکستان ملک کا مستقبل ہے، آئی ٹی کی وزارت اچھا کام کر رہی ہے لیکن ابھی بہت کام کرنا باقی ہے۔

انہوں نے آئی ٹی پارکس کے منصوبے کا سراہتے ہوئے کہا کہ اس سے پاکستان کی برآمدات بڑھائی جا سکتی ہیں اور نوجوانوں کو آئی ٹی کے شعبہ میں مواقع فراہم کرکے ان کی صلاحیتوں سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔

س موقع پر وفاقی وزیر سید امین الحق نے پراجیکٹ کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ایک ارب 28 کروڑ کے اس منصوبے کے تحت جاز نیٹ ورک، سندھ کے اضلاع خیرپور، سکھر، گھوٹکی اور بلوچستان میں کچھی، جھل مگسی، زیارت اور قلات ڈویڑن میں ہائی اسپیڈ براڈ بینڈ سروسز پہنچانے کا ذمہ دار ہو گا۔

سید امین الحق نے کہا کہ منصوبے کی تکمیل سے ان اضلاع اور اطراف کے 1146 پسماندہ دیہاتوں اور مضافات کے 24 لاکھ افراد کو تیز ترین انٹرنیٹ سروس میسر آ سکے گی۔ اس طرح 34 ہزار 660 مربع کلومیٹر کا وسیع علاقہ مستفید ہوسکے گا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اگر وزیراعظم اسی طرح ہمیں ٹائم دیتے رہیں تو ہم انھیں یقین دلاتے ہیں کہ ہر ماہ یو ایس ایف کی جانب سے عوامی سہولیات کا ایک پراجیکٹ ہم پیش کرتے رہیں گے۔

تقریب سے اپنے خطاب میں چیئرمین یو ایس ایف بورڈ اور سیکریٹری آئی ٹی شعیب احمد صدیقی نے کہا کہ یونیورسل سروس فنڈ اپنے قیام کے مقاصد کو بھرپور طریقے سے پورا کر رہی ہے خاص طور پر گذشتہ دو برسوں کے دوران یو ایس ایف نے پسماندہ اور دور دراز علاقوں تک براڈ بینڈ و موبائل سروسز پہنچانے کیلئے نمایاں کام کئے ہیں۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ یو ایس ایف کے نومنتخب چیف ایگزیکٹیو آفیسر حارث محمود چوہدری کی قیادت میں ادارہ اپنے سارے سنگ میل تیزی سے عبور کرے گا۔

 

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here