تھر میں بارشوں کے بعد پہلی بار منفرد خیمہ منڈی میں روایتی سبزیوں و پھلوں کی فروخت

مٹھی شہر کے نزدیک قائم منڈی تھر کی سوغات کی خریداری کے لئے سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن گئی

594

مٹھی:  تھر کے باسیوں نے حالیہ بارشوں کے بعد مشکلات اور سہولیات کے فقدان کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے خیمہ بستیوں کی طرح پہلی بار خیمہ منڈی قائم کرکے علاقے کی روایتی سبزیاں اور پھل فروخت کرنا شروع کر دیئے ہیں جو ملک میں اپنی طرز کی منفرد منڈی ہے۔

تھر کے راستوں پر بجلی‘ گیس اور عمارات کے بغیر قائم یہ خیمہ منڈی سیاحوں کی توجہ اور خریداری کا اہم مرکز بنی ہوئی ہے، تھر کی سب سے بڑی خیمہ مارکیٹ مٹھی شہر کے نزدیک نکوٹ بدین بائی پاس روڈ پھانگاریو سٹاپ پر قائم کی گئی ہے۔

اس مارکیٹ میں درجنوں عارضی دکانیں موجود ہیں جہاں سے روزانہ تھر گھومنے والے سیاح اپنے لیے مقامی روایتی سبزیاں کھمبی‘ للر‘ چبھڑ‘ گدریون‘ چانھیون‘ ریبھڑیوں‘ میھا‘ پپون‘ کوڈھیر اور گوار خرید کر لے جاتے ہیں۔

اس خیمہ منڈی کے علاوہ ایک ایک خیمے کی دکان بھی تھر میں جگہ جگہ دیکھنے کو ملتی ہے۔ تھر کی یہ سبزیاں اور پھل سیاح اوریہاں کے باسی بڑے شوق سے کھاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: تھرکول: کیا یہ منصوبہ اتنا ہی متاثر کن ہے جتنا اسکے بارے میں بتایا جاتا ہے؟ یا کہانی کچھ اور ہے؟

مالوند لوگ کھمبی‘ مریئڑو‘ للر‘ چبھڑ‘ گدریون‘ چانھیون‘ ریبھریوں“ میھا‘ پپون‘ کوڈھیر اور گوار چن کر دکانوں پر فروخت کرتے ہیں۔ دکاندار ان سبزیوں کو سیاحوں کو فروخت کرتے ہیں، ابتداء میں یہ قدرتی سبزیاں پانچ سے سات سو روپے فی کلو فروخت ہوتی ہیں تاہم بعد ازاں یہ دو سو سے تین سو روپے میں فروخت ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ دوسری سبزیاں بھی سو سے دو سو روپے فی کلو فروخت ہوتی ہیں۔

Vessel full of mushroom
تھر کی معروف کھمبھیاں صحرائی ریت میں پیدا ہوتی ہیں

تھر میں بارش کے بعد پیدا ہونے والی سبزیاں تھر کے لوگ پورا سال سنبھال کر رکھتے ہیں اور مشکل وقت میں استعمال کرتے ہیں۔ تھر میں پیدا ہونے والی یہ سبزیاں غذائیت سے بھرپور ہوتی ہیں۔ عموماً لوگ اس کا بیج نہیں بوتے بلکہ یہ بارش کے بعد خود بخود اگتی ہیں۔

تھر کی معروف کھمبھیاں صحرائی ریت میں پیدا ہوتی ہیں، بعض کھمبھیاں زہریلی بھی ہوتی ہیں لہٰذا اسے کھانے کیلئے استعمال کرتے ہوئے نہایت احتیاط برتی جاتی ہے۔ مریڑو اور للر بھی بارش کے بعد پیدا ہوتے ہیں، صحرا میں اگنے والی یہ سبزیاں سرسوں کے ساگ کی طرح پکائی جاتی ہیں اور ان کا ذائقہ سرسوں کے ساگ جیسا ہوتا ہے، لوگ پپوں کے پھل کو بہت شوق سے کھاتے ہیں۔ کوڈھیر کے پھل کا ذائقہ آلو سے ملتا جلتا ہے۔ بھرٹ گندم کی طرح کا پودا ہوتا ہے، اس کا دانہ پیس کر آٹا بنانے کے بعد روٹیاں پکا کر لوگ قحط کے دنوں میں استعمال کرتے ہیں۔ چبھڑ اور گدریون چھوٹے خربوزے کی طرح کے ذائقہ دار پھل ہوتے ہیں اور لوگ انہیں بڑے مزے سے کھاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: کوئلے کے بعد نمک کی کانیں بھی تھرپاکر کے باسیوں کی زندگیاں بدلنے میں ناکام

خیمہ منڈی میں تھر کی مشہور سبزیاں فروخت کرنے والے سوائی بھیل نے ”اے پی پی“ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ تھر میں بارش سے پیدا ہونے والی سبزیاں  مناسب نرخوں پر فروخت ہوتی ہیں جن سے ہمارا گزر بسر اچھا ہو جاتا ہے۔

 ایک اور سبزی فروش پیارو خان بجیر نے بتایا کہ تھر میں سب سے زیادہ کھمبی فروخت ہوتی ہے جو تمام سبزیوں سے مہنگی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کھمبیاں  یہاں سے گھوٹکی‘ جیکب آباد‘ سکھر‘ دادو‘ حیدرآباد‘ مورو‘ لاڑکانہ اور دوسرے شہروں کے تاجر لیکر جاتے ہیں جس سے ہمیں اچھی آمدن ہو جاتی ہے۔

پیارو خان بجیر نے بتایا کہ اگر بارش متواتر ہوتی ہے تو ہمارا کاروبار دو مہینوں تک چلتا ہے اور اگر بارش کم ہو تو کاروبار 15 سے 20 روز چلتا ہے۔

تھر گھومنے آنے والے ضلع ٹھٹہ کے اسلم اور رمضان نے بتایا کہ ’ہم ہر سال تھر گھومنے آتے ہیں، بارش کے بعد تھر کے نظارے بہت دلکش ہوتے ہیں، ہم واپسی پر یہاں سے تھر کی سبزیاں لیکر جاتے ہیں جو خود بھی شوق سے کھاتے ہیں اور رشتہ داروں کو بھی سوغات کے طور پر بھجواتے ہیں۔‘

تھر کے مقامی باشدوں کا کہنا ہے کہ علاقے میں مناسب سہولیات کی فراہمی سے نہ صرف لوگوں کا معیار زندگی بلند ہو گا، روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے بلکہ سیاحت کے فروغ میں بھی مدد ملے گی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here