بینک اکاﺅنٹس منجمد ہونے پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کا بھارت میں دفاتر بند کرنے کا اعلان

مقبوضہ کشمیر، دہلی میں احتجاج کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کیا، گذشتہ چند سال سے بھارت کی سرکاری ایجنسیوں کی طرف سے انتقامی کارروائیوں کا سامنا ہے، ایمنسٹی انٹرنیشنل کا بیان

255

نئی دہلی: انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مودی حکومت کی جانب سے بینک اکاﺅنٹس منجمد کرنے پر بھارت میں اپنی سرگرمیاں اور دفاتر بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بینک اکاﺅنٹس بھارت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آواز بلند کرنے کی سزا کے طور پر منجمد کیے گئے ہیں جس کے بعد ایمنسٹی بھارت میں انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف اپنی مہم اور تحقیقاتی سرگرمیاں روکنے  پر مجبور ہے۔

بھارتی حکومت کی طرف سے انسانی حقوق کی تسلسل کے ساتھ پامالی کے بعد انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے اداروں کے خلاف یہ تازہ ترین کارروائی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے حالیہ دنوں میں مقبوضہ جموں و کشمیر اور نئی دہلی میں احتجاج کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کیا تھا اور بھارتی حکومت نے اس کی سزا دینے کے لئے 10 ستمبر کو اس کے بینک اکاﺅنٹس منجمد کر دیئے تھے جو تاحال بحال نہیں کیے گئے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق بھارتی حکومت ملک میں انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے کام کرنے والے دیگر اداروں کے خلاف بھی ایسی ہی انتقامی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے سینئر ڈائریکٹر آف ریسرچ، ایڈووکیسی اینڈ پالیسی رجت کھوسلا نے برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ ایمنسٹی کو اس وقت بھارت میں غیر معمولی صورتحال کا سامنا ہے اور اس کے ملازمین اور افسران کو مودی حکومت کی طرف سے منظم انداز میں حملوں، دھونس دھمکیوں اور ہراسانی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت نے جموں و کشمیر میں لوگوں کو بنیادی آزادیوں سے محروم کرنے اور نئی دہلی میں فسادات کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر ادارے کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کا جواب مانگنے پر انتقام کا نشانہ بنایا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی طرف سے گذشتہ ماہ جاری رپورٹ کے مطابق رواں سال فروری میں نئی دہلی میں ہونے والے مسلم کش فسادات کے دوران بھارتی پولیس نے انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیاں کی ہیں۔

علاوہ ازیں ایمنسٹی انٹرنیشنل کی طرف سے گذشتہ ماہ بھارت کے زیر تسلط جموں و کشمیر میں تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی اور انٹرنیٹ کی بحالی کا بھی مطالبہ کیا تھا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے گذشتہ سال امریکہ کی خارجہ امور کمیٹی کے روبرو بیان میں بھی بھارت کے زیر تسلط جموں و کشمیر میں لوگوں کو بغیر مقدمہ چلائے حراست میں رکھنے اور طاقت کے بے تحاشا استعمال اور تشدد سے آگاہ کیا تھا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی طرف سے جاری بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسے گذشتہ چند سال سے بھارت کی سرکاری ایجنسیوں کی طرف سے انتقامی کارروائیوں کا سامنا ہے۔ ایسے ہی ایک واقعہ میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کے خلاف اس کی ایک تقریب میں بھارت مخالف نعرے لگائے جانے کے الزام کے تحت مقدمہ درج کیا گیا اور تین سال کی کارروائی کے بعد عدالت نے اس الزام کو بے بنیاد قرار دے دیا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے قبل ازیں 2009ء میں بھی بھارت میں اپنی سرگرمیاں روک دی تھیں اور بتایا تھا کہ اس وقت کی بھارتی حکومت نے بار بار درخواست کے باوجود سمندر پار سے فنڈز وصول کرنے کا اس کا لائسنس نہیں دیا تھا۔

موجودہ بھارتی حکومت نے بھی ایمنسٹی انٹرنیشنل پر بیرون ملک سے فنڈز کی وصولی میں بھارتی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے تاہم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی طرف سے اس کی پرزور تردید کی گئی ہے۔

بھارت میں انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے کام کرنے والے اداروں نے ان خدشات کا اظہار کیا ہے کہ ملک میں اظہار رائے کی آزادی پر قدغن سے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی حیثیت سے بھارت کی ساکھ شدید متاثر ہو رہی ہے۔

رجت کھوسلا نے کہا کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل دنیا کے 70 سے زیادہ ممالک میں کام کر رہی ہے اور اسے روس اور بھارت کے علاوہ کسی ملک میں ایسی صورتحال کا سامنا نہیں کرنا پڑا کہ وہ اپنی سرگرمیاں معطل کرنے پر مجبور ہو جائے۔

انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ اس معاملہ پر مل کر بیٹھے اور ادارے کو بھارت میں درپیش صورتحال کا نوٹس لے۔ انہوں نے کہا کہ ایمنسٹی بھارت میں اپنی سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کے لئے قانونی کوششیں جاری رکھے گا۔

برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق اس حوالے سے بھارتی حکام کے ساتھ رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تاہم انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here