گندم کی قیمت میں اضافہ حکومتی بد انتظامی کا نتیجہ ہے : قائمہ کمیٹی

حکومت ملک میں پیدا ہونے والی گندم سنبھالنے میں ناکام رہی، گندم کا ریٹ فکس اور ملک میں قلت دور کرنے کے لیے اقدامات تیز کیے جائیں : قومی اسمبلی کی کمیٹی

114

اسلام آباد : قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت نے گندم، آٹے اور دوسری اشیا خور و نوش کی قیمت میں اضافے کا ذمہ دار حکومت کی بد انتظامی کو قرار دے دیا۔

اشیا خور و نوش کی قیمتوں میں اضافے کا جائزہ لینے کے لیے ہونے والے کمیٹی اجلاس کی صدارت ایم این اے سید نوید قمر نے کی۔

اس موقع پر انہوں نے حکومت سے  گندم کی فکس قیمت مقرر کرنے اور کاشتکاروں کو زیادہ سے زیادہ سے مراعات دینے کا مطالبہ کیا۔

یہ بھی پڑھیے:

گندم درآمد کیلئے ٹریڈنگ کارپویشن کو روس سے کم ترین بولی موصول

پاکستانی مالیاتی نظام کی بہتری کے لیے 30 کروڑ ڈالر پالیسی قرض منظور

کمیٹی چئیرمین کا کہنا تھا کہ حکومت ملک میں پیدا ہونے والی گندم سنبھالنے میں بری طرح ناکام ہوئی ہے جس کی وجہ سے نہ صرف اسکی کمی ہوگئی ہے بلکہ اس کی قیمت میں بھی بے تحاشا اضافہ ہوگیا ہے۔

انہوں نے وزارت خوراک کو ملک میں گندم کی قلت پر قابو پانے کے اقدامات کو تیز کرنے کی ہدایت بھی کی۔

اس پر وزارت کے حکام نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ وفاقی کابینہ نے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کے ذریعے پندرہ لاکھ ٹن میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کی منظوری دے دی ہے جو کہ ملکی مانگ پوری کرنے کے لیے پاسکو کے علاوہ پنجاب اور خیبر پختونخواہ کو فراہم کی جائے گی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here