معیشت بحالی کی راہ پر گامزن، درمیانی اور طویل مدت کے قرضوں کے حصول میں اضافہ، سٹیٹ بینک

ہوٹل و مہمان نوازی کی صنعت نے 40 فیصد، موٹرسائیکل مینوفیکچرنگ انڈسٹری نے 12 فیصد، فارما سیکٹر نے 10 فیصد زیادہ قرضے لیے

114

اسلام آباد: کورونا وائرس کی وبا کے باعث پیدا ہونے والے معاشی بحران کے بعد قومی معیشت تیزی سے بحالی کی راہ پر گامزن ہے، رواں مالی سال کے پہلے دو مہینوں کے دوران مختلف شعبوں کی جانب سے درمیانی اور طویل مدت کے قرضوں کے حصول میں اضافہ ہوا ہے۔

سٹیٹ بینک آف پاکستان ( ایس بی پی) کی رپورٹ کے مطابق جولائی اور اگست 2020ء کے دوران رہائشی سہولیات فراہم کرنے والی صنعت ( ہوٹلز و دیگر) کی جانب سے قرضوں کے حصول میں 40 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

جولائی اور اگست کے دوران اس صنعت کو35.17 ارب روپے کے قرضہ جات جاری کئے گئے ہیں جو گذشتہ مالی سال کے پہلے دو ماہ کے مقابلہ میں 10 ارب روپے یعنی 40 فیصد زیادہ ہیں۔

اسی طرح موٹر سائیکلز تیار کرنے والی صنعت کے قرضوں کے حصول میں 12.30 فیصد اضافہ ہوا اور گذشتہ دو ماہ میں مذکورہ شعبہ کو 9.35 ارب روپے کے قرضہ جات جاری کئے گئے جو جولائی اور اگست 2019ء کے مقابلہ میں 1.03 ارب روپے یعنی 12 فیصد سے زیادہ رہے ہیں۔

ایس بی پی کی رپورٹ کے مطابق جون 2020ء کے اختتام پر بنیادی ادویات تیار کرنے والی صنعت کے واجب الادا قرضے 61 ارب روپے تھے جو دو ماہ کے دوران 73 ارب روپے تک بڑھ گئے ہیں۔

مزید برآں عوام نے پاکستان سٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں مختلف کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری کےلئے جاری مالی سال کے ابتدائی دو مہینوں کے دوران 14 ارب روپے کے قرضے حاصل کئے ہیں۔

مرکزی بینک نے کہا ہے کہ معیشت کے مختلف شعبوں میں قرضوں کے حصول میں اضافہ کی شرح ملک میں معاشی، صنعتی اور تجارتی سرگرمیوں کی بحالی کی عکاسی کرتی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here