پٹرولیم مصنوعات کی سپلائی کے لیے کراچی سے شیخوپورہ تک دو رویہ پائپ لائن بچھ گئی

منصوبہ آئل ٹینکروں کے اُلٹنے کے واقعات کی وجہ سے بنایا گیا، کراچی سے شیخوپورہ تک آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو پٹرول و ڈیزل کی سپلائی کے لیے روایتی ذرائع پر انحصار کم ہوجائے گا، منصوبے کو پشاور تک توسیع دینے کے لیے ٹھیکا دے دیا گیا ۔

117

اسلام آباد: پٹرولیم ڈویژن نے کراچی سے شیخوپورہ تک تیل کی ترسیل کی پائپ لائن کو دو رویہ کرنے کا کام مکمل کرلیا جس کا مقصد آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو بنا تعطل ڈیزل اور پٹرول کی فراہمی ہے۔

تیل و ڈیزل کی ترسیل کی یہ دو رویہ پائپ لائن اکتوبر سے آپریشنل ہوجائے گی جس  سے ایندھن کی ٹرانسپورٹیشن کے لیے روایتی ذرائع پر انحصار کم ہوجائے گا۔

پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری ایک بیان میں کراچی سے شیخوپورہ تک پٹرول اور ڈیزل کی فراہمی کے لیے بچھائی جانے والی پائپ لائن کو دو رویہ کردینے بارے اطلاع  کے ساتھ اس پائپ لائن کو پشاور تک پہنچانے کے ارادے بارے بھی بتایا گیا ہے جس کے لیے ایف ڈبلیو او کو ٹھیکا دے دیا گیا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس پائپ لائن کو پشاور تک پہنچانے کا کام 18 سے  24ماہ میں مکمل ہونے کی اُمید ہے جس سے کراچی سے پشاور ڈیزل اور پٹرول کی ترسیل کے لیے ٹینکروں کی ضرورت نہیں رہے گی۔

تاہم آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے ڈپوؤں سے  پمپوں تک ایندھن ٹینکروں کے ذیعے ہی پہنچایا جائے گا۔

شیخوپورہ سے پشاور تک ڈیزل اور پٹرول کی ترسیل کے لیے 427 کلومیٹر طویل پائپ لائن بچھائی جائے گی۔

پائپ لائن کے ذریعے ایندھن کی ترسیل کے منصوبہ آئے روز آئل ٹینکروں کے اُلٹنے اور پھسلنے کے واقعات خاص کر 2017 میں احمد پور شرقیہ کے افسوسناک واقعے کے بعد بنایا گیا جس کا مقصد پٹرولیم مصنوعات کی بنا تعطل اور محفوظ سپلائی تھا۔

یہ منصوبہ تین حصوں یعنی ماشکی سے  چک پرانہ 135 کلومیٹر، چک پرانہ سے روات 117 کلومیٹر اور روات سے تروجبہ تک 175 کلومیٹر پائپ لائن پر مسشتمل ہے جس کے ذریعے پٹرول، ہائی سپیڈ ڈیزل، اور موٹر سپرٹ آئل مختلف ڈپوؤں کو سپلائی کیا جائے گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here