قانونی حیثیت کی نشاندہی کیلئے کراچی میں عمارتوں پر کیو آر کوڈ چسپاں کیے جائیں گے

ان کیوک ریسپانس کوڈز کو سکین کرکے عوام کسی بھی عمارت کے قانونی یا غیر قانونی ہونے بارے جان سکیں گے۔

259

کراچی : شہر قائد میں عوام کو  زیرتعمیر رہائشی و کمرشل عمارتوں کی قانونی حیثیت سے آگاہی کے لیے اِن بلڈنگز کو کوئیک رسپانس (کیو آر) کوڈ دیے جائیں گے جنھیں نمایاں طور پر آویزاں کرنا لازمی ہو گا۔

شہری اپنے سمارٹ فونز سے کسی بھی عمارت کے کیو آر کوڈ کو سکین کر کے یہ یہ جان سکیں گے کہ آیا وہ عمارت  قانونی ہے یا نہیں۔

وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے ایک ملاقات میں صوبے کے بلڈرز کو اس بات سے آگاہ کیا ہے کہ ان کو اپنے آئندہ منصوبوں میں اس فیصلے پر عمل درآمد کرنا ہو گا۔

سندھ حکومت نے یہ فیصلہ اس لیے کیا ہے کیونکہ شہر میں رہائشی عمارتوں کو  کمرشل مقاصد کیلئے استعمال کرنے سے کئی مسائل جنم لے رہے تھے۔  ماضی میں ایسی کئی عمارتیں زمین بوس ہو کر متعدد افراد کی جانیں لے چکی ہیں۔

مزید برآں یہ غیر قانونی عمارتیں شہر میں پارکنگ، سیوریج، واٹر سپلائی اور ویسٹ ڈسپوزل کے مسائل کا باعث بن چکی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: کراچی: رہائشی عمارتوں کے کمرشل استعمال پر مکمل پابندی

وزیراعلی مراد علی شاہ نے بلڈرز کے وفد سے ملاقات میں انہیں اپنے آئندہ منصوبوں کے لیے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے کیو آر کوڈ حاصل کرنے کی ہدایت کردی۔

ان کا کہنا تھا کہ ان منصوبوں پر کیو آر بورڈ آویزاں کرنے سے حکومت اور عوام کے لیے ان کی قانونی حیثیت بارے جاننا آسان ہو جائے گا اور غیر قانونی تعمیرات کی نشاندہی بھی سہل ہو گی۔

وزیراعلی مراد علی شاہ نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو موجودہ عمارتوں کے لیے بھی ایسے ہی کیو آر کوڈز تیار کرنے کا حکم دے دیا ہے تاکہ لوگوں کو انکی قانونی حیثیت بارے بھی آگاہی حاصل ہوسکے۔

یہ بھی پڑھیے: مسائل کی دلدل سے نکل کر عالمی سطح کا شہر: کیسے کراچی پاکستان کی ترقی کو تیز کر سکتا ہے؟

اس موقع پر بلڈرز نے حکومت کو پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت عوام کو سستے گھروں کی فراہمی کے لیے تعاون کی پیشکش بھی کی۔

وزیراعلی سندھ نے یہ پیشکش قبول کرتے ہوئے لوکل گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ کو اس تجویز کے حوالے سے سمری کی تیاری کا حکم دے دیا جسے منظوری کے لیے کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

مزید برآں مراد علی شاہ نے بلڈرز کو انکے تمام جائز معاملات کی تیزی کے ساتھ حل کا یقین بھی دلایا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here