حکومت کا پاک افغان تجارت کے لیے غلام خان بارڈر بھی کھولنےکا فیصلہ

بارڈر یکم اکتوبر سے کھولا جائے گا، اقدام کا مقصد طورخم اور چمن بارڈروں پر رش کم کرنا ہے، فوری طور پر صرف سیمنٹ کی برآمد کی اجازت ہوگی

227

پشاور : طورخم اور چمن بارڈر پر رش کم کرنے کے لیے حکومت پاکستان کا افغانستان کے ساتھ ٹرانزٹ ٹریڈ کے لیے یکم اکتوبر سے غلام خان بارڈر کھولنے کا فیصلہ ۔

تفصیلات کے مطابق کسٹم حکام نے غلام خان بارڈر پر ویب بیسڈ ون کسٹم سسٹم کے نفاذ پر کام شروع کردیا  ہے جو کہ ایک ایسا سسٹم ہے جو پاکستان ریونیو آٹو میشن لمیٹڈ نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے لیے ڈیزائن کیا ہے جس کے ذریعے افغانستان کو سیمنٹ کی برآمد کی جائے گی۔

کسٹم حکام نے اس اقدام بارے سیمنٹ کمپنیوں کو بھی آگاہ کردیا ہے۔

اُدھر سرحد چیمبر آف کامرس کے سینئیر وائس صدر شاہد حسین نے حکومت کے اس اقدام کو خوش آمدید کہا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ غلام خان بارڈر کھلنے سے چمن اور طورخم بارڈر پر گاڑیوں کی کلیرنس کا بوجھ کم ہوگا۔

انکا کہنا تھا کہ طورخم اور چمن بارڈر پر گاڑیوں کی کلیرنس میں لگنے والا وقت تاجروں کے لیے کافی تکلیف اور پریشانی کا باعث ہے اور مسئلے کے حل کے لیے حکومت سے دیگر کراسنگ پوائنٹس کھولنے کا مطالبہ کافی عرصے سے کیا جارہا تھا۔

یہ بھی پڑھیے:

گوادر بندرگاہ کو افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے لیے استعمال کرنے کی اجازت

پاکستان گیس پورٹ کنسورشیم ٹرمینل کی خالی جگہ نجی کمپنیوں کو دینے کا فیصلہ

انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان کے ساتھ تجارت کے لیے پاکستان اہم راستہ ہے اور ٹرانزٹ ٹریڈ کے لیے تین کراسنگ پوائنٹس یعنی غلام خان، چمن اور طورخم بارڈر کے استعمال کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

تاہم پاک افغان حکومتوں کے درمیان اتفاق نہ ہونےاور سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث غلام خان بارڈر فوری طور پر نہیں کھولا جاسکا تھا۔

انکا کہنا تھا کہ بلآخر غلام خان کراسنگ کے کھلنے سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں اضافہ ہوگا۔

اس حوالے سے ذرائع کا پرافٹ اردو کو بتانا تھا کہ غلام اسحاق کراسنگ کو اس سے پہلے بھی کھولا گیا تھا مگر کسٹم کلیرنگ مینوئل ہونے کے باعث اس راستے سے تجارت دیگر راستوں کی نسبت زیادہ وقت طلب تھی جبکہ مالیاتی مسائل اور دیگر مشکلات اس کے علاوہ تھیں۔

تجارتی عمل کو تیز بنانے کے لیے یہاں ویب بیسڈ ون کسٹم سسٹم کی ضرورت تھی جس کے نفاذ پر اب کام شروع ہوچکا ہے اور بارڈر کو یکم اکتوبر سے کھول دیا جائے گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here