‘ تمام ہوابازوں کے لائسنس درست، معاملہ ائیرلائنز کے فراہم کردہ غلط ڈیٹا کی وجہ سے کھڑا ہوا ‘

انکوائری میں مزید تیس پائلٹس کے لائسنس درست قرار، قومی ائیر لائن اور دو نجی ائیرلائنز کی جانب سے غلط آئی ڈیز کی فراہمی کی وجہ سے ہواباز گراؤنڈ، لائسنس معطل رہے۔

197

کراچی : سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ہوابازوں کے جعلی لائسنسوں کے معاملے کی ذمہ داری ائیر لائنز پر ڈال دی ۔ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ ائیر لائنز کی جانب سے غلط معلومات کی فراہمی کی وجہ سے پیش آیا۔

اتھارٹی نے انکوائری میں تیس مزید ہوابازوں کے لائسنس درست ثابت ہونے پر ایک بیان میں کہا ہے کہ اس معاملہ سامنے آنے کے بعد انہیں گراؤنڈ کردیا گیا تھا اور ایسا ہوائی کمپنیوں کی غلطی کی وجہ سے ہوا۔

یہ بھی پڑھیے:

عراقی حکومت نے اربعین کے موقع پر پی آئی اے کو پروازوں کی خصوصی اجازت منسوخ کر دی

یورپی یونین کی جانب سے پابندی کے باعث پی آئی اے کو بھاری مالی نقصان

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ بورڈ آف انکوائری نے ان تیس ہوابازوں کے  ائیر لائن ٹرانسپورٹ پائلٹ لائسنس اور کمرشل پائلٹ لائسنسوں کی جامع تصدیق کی اور انہیں کلئیر قرار دے دیا ہے۔

اس دوران ان تمام ہوابازوں کے لائسنس معطل رہے جس کی وجہ  قومی ائیر لائن اور دو نجی ائیر لائنز کی جانب سے غلط آئی ڈیز کا فراہم کیا جانا ہے۔

اتھارٹی کا مزید کہنا تھا کہ ائیر لائنز کی جانب سے غلط ڈیٹا فراہم کیے جانے کی وجہ سے پوری دنیا میں پاکستان کی بدنامی کا باعث بننے والے سکینڈل نے جنم لیا جس پر ہوائی کمپنیوں کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔

واضح رہے کہ پندرہ جولائی کو پاکستان ائیر لائنز پائلٹس ایسوسی ایشن کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ پاکستان میں کسی بھی ہواباز کا لائسنس جعلی نہیں ہے جس کی تصدیق سی اے اے کے ڈائریکٹر جنرل کی جانب سے اپنے عمانی ہم منصب کو لکھے گئے خط کے ذریعے بھی ہوتی ہے جس میں انھوں نے پاکستان میں کسی بھی ہواباز کے لائسنس کے جعلی ہونے کی تردید کی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here