ایس ای سی پی ڈیٹا لیک : مرکزی ملزم ارسلان ظفر نے تحقیقاتی کمیٹی کا قیام چیلنج کردیا

انکوائری کمیٹی کو تفصیلی جواب جمع کروانے کے باوجود رُخصت پر بھیج دیا گیا، تحقیقات حقائق کے بجائے مفروضوں پر مبنی ہیں : ایڈیشنل ڈائریکٹر ایس ای سی پی

111

 اسلام آباد : سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) ڈیٹا لیک معاملے کے مرکزی ملزم ارسلان ظفر حجازی نے تحقیقاتی کمیٹی کے قیام کو عدالت میں چیلنج کر دیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں سابق چئیرمین ایس ای سی پی ظفر حجازی کے صاحبزادے اور ادارے کے  مارکیٹ سرویلنس ڈیپارٹمنٹ کے ایڈیشنل ڈائریکٹر ارسلان ظفر حجازی نے موقف اپنایا کہ تحقیقاتی کمیٹی کو معاملے پر تفصیلی جواب جمع کروانے کے باوجود انہیں جبری رخصت پر بھیج کر ان کا لیپ ٹاپ قبضے میں لے لیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: ڈیٹا لیک کرنے پر ایس ای سی پی کے 8 افسران کو شوکاز نوٹسز جاری

درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ معاملے کی تحقیقاتی کمیٹی میں آئی ٹی کے ایڈیشنل جوائنٹ ڈائریکٹر ہارون الرشید کو شامل کرنا قانون کی خلاف ورزی ہے، تحقیقات حقائق کے بجائے مفروضوں پر مبنی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے:

ہم ٹی وی کا ممکنہ ٹیک اوور : سلطانہ صدیقی نے ایس ای سی پی کو تحقیقات کی درخواست دے دی

عدالت میں دی گئی درخواست میں ارسلان ظفر حجازی نے ایس ای سی پی ڈیٹا لیک معاملے پر بنائی گئی تحقیقاتی کمیٹی اور اس سلسلے میں انہیں جاری کیا گیا شوکاز نوٹس کالعدم قرار دینے کی استدعا بھی کی ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ارسلان ظفر کی درخواست پر بنچ کی تشکیل دے دیا، معاملے کی سماعت وہ خود کریں گے۔

واضح رہے کہ ڈیٹا لیک معاملے پر ایس ای سی پی نے ایڈیشنل ڈائریکٹر ارسلان ظفر حجازی سمیت 10 اہلکاروں کو تحقیقات کے بعد شو کاز نوٹس جاری کر رکھا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here