ادویات کی قیمتوں میں اضافہ لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج

زندگی بچانے والی ادویات کی قیمتوں میں 262 فیصد اضافہ کرکے ڈریپ نے قواعدوضوابط کی خلاف ورزی کی، اضافہ غیر قانونی قرار دیا جائے: درخواستگزار

154

لاہور: حکومت کی جانب سے ادویات کی قیمتوں میں 262 فیصد اضافے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا۔

ایڈووکیٹ ندیم سرور نے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی کہ وفاقی حکومت کی جانب سے 22 ستمبر کو 94 ادویات کی قیمتوں میں اضافے کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔

درخواست میں وفاقی، صوبائی حکومتوں، ڈریپ اور دیگر متعلقہ اتھارٹیز کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست گزار کی جانب سے موقف اپنایا گیا ہے کہ زندگی بچانے والی ادویات کی قیمتوں میں 262 فیصد اضافہ کرکے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی (ڈریپ) نے قواعدوضوابط کی خلاف ورزی کی ہے لہٰذا اسے کالعدم قرار دیا جائے۔

واضح رہے کہ ڈریپ کے جاری کردہ نوٹی فکیشن کے مطابق جن ادویات کی قیمتیں بڑھائی گئی ہیں ان میں آنکھ، کان، دانت اور منہ کے انفکیشن کیلئے استعمال ہونے والی ادویات شامل ہیں۔

اس کے علاوہ بخار کے بعد پیچیدگیوں کے علاج میں استعمال ہونے والی ادویات، امراض قلب، معدے کے امراض، ملیریا، ذیابیطس، سر درد، گلا خراب، نزلہ اور جلدی بیماریوں کے علاج میں استعمال ہونے والی ادویات کی قیمتیں بڑھائی گئی ہیں۔

24 ستمبر کو وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا تھا کہ مذکورہ ادویات کی قیمتوں میں اضافہ اس لیے کرنا ناگزیر ہو چکا تھا تاکہ ان کی مارکیٹ میں دستیابی یقینی بنائی جائے۔

ڈاکٹر فیصل نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ فارما سیوٹیکل کمپنیاں ان ادویات کی پیداوار کم کر دیتی ہیں یا روک دیتی ہیں جن کی قیمت بے حد کم ہو، اس لیے لوگوں کو اس کے متبادل مہنگی دوائی خریدنا پڑتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ فارما کمپنیوں کی جانب سے ادویات کی پیداوار روکنے سے مارکیٹ میں قلت پیدا ہو جاتی ہے اسی قلت سے بچنے کیلئے مارکیٹ کے موافق قیمت میں اضافہ کیا گیا ہے تاکہ ادویات کی قلت پیدا نہ ہو۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here