بینکوں کو صارفین کی معلومات ایف بی آر کو دینا ہوں گی

ایف بی آر اور پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے مابین انکم ٹیکس آرڈیننس 2001ء کے سیکشن 165 اور 165 اے کے طریقہ کار پر عملدرآمد کے حوالے سے اتفاق رائے طے پا گیا، رقم نکلوانے، جمع کرانے، کریڈٹ کارڈ کی ادائیگیوں، قرض پر منافع کی معلومات شامل

115

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور پاکستان بینکس ایسوسی ایشن (پی بی اے) کے مابین انکم ٹیکس آرڈی نینس 2001ء کے سیکشن 165 اور 165 اے کے طریقہ کار پر عملدرآمد کے حوالے سے اتفاق رائے طے پا گیا۔

ترجمان ایف بی آر کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ادارے اس بات پر متفق ہوئے ہیں کہ بینک ایف بی آر کی جانب سے ترتیب دیے گئے آئی ٹی سلوشنز کے ذریعے رقم نکلوانے، جمع کرانے، کریڈٹ کارڈ کی ادائیگی اور قرض پر منافع کے حوالے سے سیکشن 165 اور سیکشن 165 اے کے تحت ایف بی آر کو معلومات فراہم کریں گے۔

یہ تکنیکی سلیوشن بینکوں کو باہم منسلک کرے گا جس کے ذریعے بینک فوری طور پر متعلقہ معلومات ایف بی آر کے ساتھ شیئر کریں گے۔

بینک اس بات پر متفق ہوئے ہیں کہ وہ ایف بی آر کی آئی ٹی ٹیم کی جانب سے تیار کئے جانے والے اس عبوری آئی ٹی سلیوشن کو استعمال کرتے ہوئے 18 ستمبر 2020ء سے ایف بی آر کے ساتھ معلومات کا تبادلہ کریں گے۔

ترجمان ایف بی آر نے کہا کہ وزیر اعظم کے مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات ڈاکٹر عشرت حسین نے ایف بی آر اور بینکوں کے مابین اس دیرینہ مسئلے کو حل کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here