ای سی سی اجلاس: پاکستان سٹیل ملز کے ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کیلئے 3.8 ارب کی منظوری

کے ٹو، کے تھری پراجیکٹس کیلئے بیرونی قرضوں پر ضمانت کی فیس، منتخب ٹیکسٹائل مصنوعات پر اضافی ڈیوٹی ختم کرنے، خرلاچی بارڈر کراسنگ کو ری بیٹ ایبل بارڈر پوائنٹ قرار دینے کیلئے نوٹی فکیشن کے اجراء کی اجازت

186

اسلام آباد: وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے کے ٹو اور کے تھری پراجیکٹس کیلئے بیرونی قرضوں پر ضمانت کی فیس ختم کرنے اور پاکستان سٹیل ملز کے ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کیلئے 3.850 ارب روپے جاری کرنے کی منظوری دیدی۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس بدھ کو مشیر خزانہ  ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی زیرصدارت کابینہ ڈویژن میں منعقد ہوا۔

ای سی سی نے اسلام آباد انتظامیہ کے واجبات کی ادائیگی کیلئے وزارت داخلہ کیلئے 11 کروڑ ایک لاکھ روپے مالیت کے دو تیکنیکی ضمنی گرانٹس کی منظوری دی، اسی طرح اسلام آباد ہائیکورٹ اور قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن کے مختلف اخراجات کیلئے بالترتیب 10 کروڑ دو لاکھ روپے اور 8 کروڑ 5 لاکھ روپے کی دو تکنیکی ضمنی گرانٹس کی منظوری دی گئی۔

اجلاس میں کراچی میں کے ٹو اور کے تھری پراجیکٹس کیلئے بیرونی قرضوں پر ضمانت کی فیس ختم کرنے کی منظوری بھی دی گئی، پاکستان اٹامک انرجی کمیشن اور اقتصادی امور ڈویژن کی طرف سے تیار کردہ رپورٹ کے مطابق اس فیس کے ختم ہونے سے عوام کو 0.07 روپے فی کلو واٹ آوور کا فائدہ پہنچے گا۔

ایکسپینڈڈ پروگرام آن امیونائزیشن (ای پی آئی) کے تحت پولیو سمیت دیگر بیماریوں کی ویکسین کی مرکزی سطح پر خریداری کے ضمن میں ای سی سی نے وفاقی ای پی آئی کو ڈویلپمنٹ سے ریونیو مصارف میں منتقل کرنے اور اس سلسلہ میں جاری کیلینڈر سال میں امیونائزیشن پروگروم کو بلاتعطل جاری رکھنے کیلئے تکنیکی ضمنی گرانٹ کے ذریعہ 9.903 ارب روپے مختص کرنے کی منظوری دی۔

اس فیصلہ کے تحت اب وفاقی ای پی آئی صوبائی حکومتوں کی جانب سے ویکیسن کی خریداری کرے گی۔ پنجاب اور سندھ کی حکومتیں بعد ازاں یہ رقوم فراہم کریں گی، خیبرپختونخوا اور بلوچستان سے ان کے متعلقہ ویکسین کے حصہ پر سورس سے کٹوتی کی جائے گی۔

اجلاس میں ٹیکسٹائل مصنوعات میں ہاتھوں سے بنے ریشوں کے حصہ کو بڑھانے، عالمی منڈی میں بہتر یونٹ قیمت کے حصول، مصنوعات میں تنوع اور ویلیو ایڈیشن کیلئے ٹیکسٹائل سیکٹر کے منتخب ایچ ایس کوڈز پر اضافی کسٹم اور ریگولیٹری ڈیوٹی ختم کرنے کی اجازت دے دی گئی۔ اس اقدام سے ٹیکس آمدن میں 53 کروڑ 3 لاکھ روپے کی کمی آئے گی۔

ای سی سی نے افغانستان کو برآمدات کیلئے پاکستان اور افغانستان کے درمیان خرلاچی بارڈر پوائنٹ کو ری بیٹ ایبل بارڈر پوائنٹ قرار دینے کیلئے نوٹی فکیشن کے اجراء کی اجازت دیدی۔

قبل ازیں یہ بارڈر کھولنے سے کوویڈ 19 کی وباء کی وجہ سے پابندیوں کے باعث سامان لے جانے والے ٹرکوں کو جانے میں بہت مدد ملی تھی۔

ای سی سی نے ہنگامی بنیادوں آپریشنز کے ذریعہ 12 ماہ تک ملکی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے کووڈ 19 کے تناظر میں پاکستان نیشنل ایمرجنسی پریپئرڈنیس اینڈ رسپانس پلان کیلئے فنڈز کی ری لینڈنگ سے استثنیٰ کی اجازت دیدی۔

پروگرام کو چلانے کیلئے ایشیائی ترقیاتی بینک 10 کروڑ ڈالر کا قرضہ فراہم کرے گا، ناروے کی حکومت ایشیائی ترقیاتی بینک کے ذریعہ مزید 50 لاکھ ڈالر کی گرانٹ فراہم کرے گی۔

اس پراجیکٹ کیلئے مالی معاونت کے ضمن میں وزارت اقتصادی امور اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے درمیان پہلے سے قرضہ کے معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں۔

اجلاس میں پاکستان سٹیل ملز کے ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی اورعدالتوں سے رجوع نہ کرنے والے ریٹائرڈ ملازمین کے واجبات کی کلئیرنس کے ضمن میں وزارت صنعت و پیداوار کی جانب سے دو سمریاں پیش کی گئیں، ای سی سی نے مالی سال 2020-21ء کیلئے پاکستان سٹیل ملز کے ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کیلئے 3.850 ارب روپے کی منظوری دیدی۔

دوسری سمری پر ای سی سی نے اس بات سے اصولی طور پر اتفاق کیا کہ عدالتی چارہ جوئی میں نہ جانے والے ریٹائرڈ ملازمین کے بقایا جات ادا کرنے چاہئیں تاہم ای سی سی نے ریٹائرڈ ملازمین کے بقایا جات کی نوعیت اور دیگر تفصیلات بارے وزارت صنعت و پیداوار سے تفصیلی رپورٹ طلب کرنے کا فیصلہ کیا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ اس ماہ کے اوائل میں پاکستان سٹیل ملز کے ریٹائرڈ ملازمین کو بقایا جات کی مد میں 12.741 ارب روپے ادا کئے گئے ہیں، سندھ ہائی کورٹ نے قانونی چارہ جوئی نہ کرنے والے ریٹائرڈ ملازمین کو ادائیگی کرنے کیلئے کہا ہے جس سے وفاقی حکومت پر 11.68 ارب روپے کے مزید اخراجات عائد ہوں گے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here