کراچی کے بعد پنجاب کے ریستورانوں نے بھی ‘ فوڈ پانڈا ‘ کا بائیکاٹ کردیا

آن لائن کھانا منگوانے کی معروف ایپ نے ہر آرڈر پر خود ساختہ طور پر تیس فیصد کمیشن لگا رکھا ہے، منہ مانگا کمیشن ادا نہ کرنے پر کھانا ڈلیور نہ کرنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں، مسابقتی کمیشن کاروائی کرکے اجارہ داری ختم کرے : آل پاکستان ریسٹورنٹ ایسوسی ایشن

213

کراچی : ملک کے بڑے شہروں کے ریستوران مالکان نے آن لائن کھانا منگوانے کی ایپ ‘ فوڈ پانڈا’  کے  بائیکاٹ کھے لیے اکٹھ کرلیا، اس کی وجہ معروف ایپ کے ساتھ مذاکرات کی ناکامی بتائی جارہی ہے۔

کراچی میں  فوڈ پانڈا کے کامیاب بائیکاٹ کے بعد آل پاکستان ریسٹورنٹ ایسوسی ایشن نے اپنے احتجاج کو پنجاب میں بھی شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور لاہور، اسلام آباد سمیت کئی شہروں کے ریستوران بائیکاٹ کی اس کال پر لبیک کہہ چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے :

ستمبر میں پنجاب میں کورونا کے باعث بند شادی ہال، ریستوران کھلنے کا امکان

پمپوں کی بندش، بھاری جرمانوں نے پشاور کے پٹرول پمپ مالکان کا پارہ چڑھا دیا

آل پاکستان ریسٹورنٹ ایسوسی ایشن کے چئیرمین محمد نعیم صدیقی کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ بائیکاٹ کے آغاز کے بعد فوڈ پانڈا نے ریسٹورنٹس پر دباؤ بڑھا دیا ہے اور منہ مانگا کمیشن ادا نہ کرنے پر کھانا ڈلیور نہ کرنے کی دھمکی دے دی ہے۔

 انکا کہنا تھا کہ آن لائن کھانا منگوانے کی اس معروف ایپ نے ہر آرڈر پر خود ساختہ طور پر تیس فیصد کمیشن لگایا ہوا ہے جو کہ مسابقی کمیشن آف پاکستان کے قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے مسابقتی کمیشن آف پاکستان سے فوڈ پانڈا کے خلاف ایکشن لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس ایپ کی اجارہ داری اور من مانی کو ختم کرکے کھانا ڈلیور کرنے والی دوسری کمپنیوں کے لیے کاروبار کرنے کو آسان بنایا جائے۔

انہوں نے اسلام آباد ریسٹورنٹ ایسوسی ایشن ، لاہور ریسٹورنٹ ایسوسی ایشن اور لاہور ریسٹورنٹ یونیٹی ایسوسی ایشن سے مشاورت کے بعد فوڈ پانڈا کا بائیکاٹ ختم کرنےکے لیے مندرجہ ذیل شرائط رکھی ہیں۔

اول : ریستورانوں کو فوڈ پانڈا کا آرڈر اپنےرائیڈرز کے ذریعے ڈلیور کرنے کی اجازت دی جائے ۔

دوم : تمام برینڈز کے لیے کمیشن کا سٹینڈرڈ طے کیا جائے۔

سوم : ریستورانوں کو  گاہکوں کا ڈیٹا فراہم کیا جائے۔

چہارم : کسی بھی ریستوران کے ساتھ انفرادی معاہدہ نہ کیا جائے

پنجم : ریستورانوں کو کمیشن میں اضافے کے لیے دھمکایا نہ جائے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here