راول ڈیم میں مضر صحت مواد، سپریم کورٹ نے رپورٹ طلب کرلی

پانی میں مضر صحت مواد کہاں سے شامل ہو رہا اس کا پتہ لگایا جائے اور اسے روکا جائے، بری امام کے علاقہ میں درخت لگائے جائیں، عدالت عظمیٰ

96

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے راول ڈیم میں مضر صحت مواد شامل ہونے سے معتلق کیس کی سماعت کرتے ہوئے کیپٹیل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) اور میونسپل کارپوریشن اسلام آباد ( ایم سی آئی) سے ایک ماہ میں رپورٹ طلب کر لی۔

جمعرات کو جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے بنی گالہ ماحولیاتی آلودگی سے متعلق کیس پر سماعت کی، دوران سماعت سی ڈی اے کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ بنی گالہ ماحولیاتی آلودگی منصوبوں پر مجموعی طور پر چار ارب روپے لاگت آئے گی، اس وقت سی ڈی اے کے پاس 50 کروڑ روپے موجود ہیں جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ 50 کروڑ سے کیا بنے گا یہ تو کنسلٹیشن پر بھی پورے نہیں ہوں گے، منصوبے پر سنجیدگی سے کام کیا جائے۔

دوران سماعت نمائندہ سی ڈی اے نے عدالت کو بتایا کہ پلاننگ کمیشن نے ماحولیاتی آلودگی منصوبوں پر کام کا آغاز کیا تھا لیکن کورونا وائرس کی وجہ سے تعطل پیدا ہو گیا، رواں سال دسمبر تک دوبارہ کام کا آغاز کر دیا جائے گا۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے سی ڈی اے کے نمائندہ کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ آپ کی رپورٹ میں فنانس کی کمی کا کوئی ذکر نہیں، راول ڈیم کے ارد گرد اب بھی غیر قانونی تعمیرات کا سلسلہ جاری ہے، کیا راول ڈیم کی صفائی کے کام کا آغاز کیا گیا ہے؟

عدالتی استفسار پر نمائندہ سی ڈی اے نے بتایا کہ پی ایس ڈی پی کے تحت اس پر بھی کام کیا جائے گا جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ پی ایس ڈی پر تو پانچ سال لگ جائیں گے، انہوں نے حکم دیا کہ اگلے تین ماہ میں اس پر کام شروع کیا جائے۔

دوران سماعت سی ڈی اے نمائندہ نے عدالت کو یقین دہانی کروائی کہ میونسپل کارپوریشن کے ساتھ مل کر روال ڈیم کی صفائی پر کام جلد مکمل کر لیں گے۔

دوران سماعت جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ میونسپل کارپوریشن کو سی ڈی اے کے ساتھ مل کر کام کرنے میں کیا مسائل درپیش ہیں؟ میونسپل کارپوریشن بتائے جن ایریاز میں بہتری کی گنجائش ہے تاکہ عدالت عظمی حکم جاری کر سکے۔

اس پر سی ڈی اے کے نمائندہ نے عدالت کو بتایا کہ صاف پانی کے تین مزید منصوبے ای الیون اور سید پور میں شروع کیے جا رہے ہیں جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ منصوبوں کی تعمیر کے حوالے سے مدت کا تعین کیوں نہیں کیا گیا۔

سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت نومبر تک ملتوی کر تے ہوئے سی ڈی اے اور ایم سی آئی سے ایک ماہ میں رپورٹ طلب کرلی۔

عدالت عظمی نے راول ڈیم میں مضر صحت مواد شامل ہونے پر رپورٹ بھی طلب کرتے ہوئے قرار دیا کہ پانی میں مضر صحت مواد کہاں سے شامل ہو رہا اس کا پتہ لگایا جائے اور اسے روکا جائے۔

عدالت عظمی نے گزشتہ احکامات پر عملدرآمد میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ پلاننگ کمیشن نے منصوبہ بندی پر ہی پانچ ماہ لگا دیئے ہیں۔

سپریم کورٹ نے سینی ٹیشن منصوبے کے لئے ایک ماہ میں پیشکشیں وصول کرنے کی ہدایت کر تے ہوئے قرار دیا کہ سی ڈی اے اور میونسپل کارپوریشن کے اختیارات کا معاملہ جلد حل کیا جائے۔ بری امام کے علاقے میں جلد از جلد درخت لگائے جائیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here