جامعات میں کرپشن، جعلی ڈگریوں کے اجرا پر گورنر خیبر پختونخوا کا نوٹس

جامعات میں کرپشن،غیر قانونی کام برادشت نہیں، آڈٹ کا شفاف نظام نہ ہونا افسوسناک، یونیورسٹیز ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے وائس چانسلروں کے اختیارات میں اضافہ ، میرٹ کا بول بالا، شفاف نظام متعارف کروایا جارہا ہے : شاہ فرمان

82

 پشاور : گورنر خیبر پختون خوا شاہ فرمان نے ولی خان یونیورسٹی مردان میں مالی بے ضابطگیوں اور صوبے کی کچھ جامعات کی طرف سے جعلی ڈگریوں کے اجرا کا نوٹس لے لیا۔

اس حوالے سے انکا کہنا تھا کہ صوبے کے اعلی تعلیمی اداروں میں مالی کرپشن اور غیر قانونی کام برداشت نہیں کیے جائیں گے۔

جاری بیان میں انہوں نے مزید کہا کہ صوبے کی تمام سرکاری جامعات کو بجٹ بنانے کی ہدایت کی گئی ہے اور ان کے لیے آڈٹ کروانا بھی لازم ہے۔

اس کے علاوہ ان اداروں میں آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی مشاورت کے بعد خزانچی بھی تعینات کیے گئے ہیں مگر بد قسمتی سے جامعات میں آڈٹ کے شفاف نظام کا فقدان ہے جس کی وجہ سے یہ مالی بحران کا شکار ہوتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے :

کرپشن الزامات، ایف بی آر کے 76 افسروں کیخلاف تحقیقات، 10 نوکریوں سے فارغ، متعدد معطل

چین پاکستان میں فنی تعلیم کے فروغ کے لیے کوشاں، بڑی امداد دینے کا اعلان

اپنے بیان میں انکا مزید کہنا تھا کہ صوبے کی جامعات میں غیر قانونی بھرتیوں کے خلاف تحیقیقات کی جاری ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ معیار تعلیم پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اس کا تعلق نئی نسل کے مستقبل سے ہے۔

اپنے بیان میں انہوں نے مزید کہا کہ صوبے کی سرکاری جامعات میں وائس چانسلروں کو مزید اختیارات دینے اور انکے نظام میں شفافیت اورمیرٹ کے بول بالے کے لیے یونیورسٹیز ایکٹ  2012 میں ترمیم کی جارہی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here