خیبر پختونخوا انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کا نیا مینجنگ ڈائریکٹر تعینات

76

پشاور: حکومتِ خیبرپختونخوا (کے پی) نے خیبرپختونخوا انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (کے پی آئی ٹی بی) کے لیے نئے مینجنگ ڈائریکٹر کی تعیناتی کی منظوری دے دی۔

وزیراعلیٰ کے پی محمود خان نے وزیراعلیٰ ہاؤس میں کے پی آئی ٹی بی کے 11ویں بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے مذکورہ مینجنگ ڈائریکٹر کی تعیناتی کی منظوری دی۔

وزیراعلیٰ کے پی کے مشیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی ضیاء اللہ بنگش، وزیراعلیٰ کے اسپیشل اسسٹنٹ برائے اطلاعات کامران بنگش، ایڈیشنل چیف سیکرٹری شکیل قادر، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری شہاب علی شاہ اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام اجلاس میں شریک ہوئے۔

وزیراعلیٰ نے صوبائی محکموں کی جانب سے دی جانے والی خدمات کو انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹائزیشن کے فروغ پر زور دیا، موجودہ صوبائی حکومت کی گورننس کی حکمتِ عملی بنیادی اور اہم انفارمیشن ٹیکنالوجی کو ترجیح دینا ہے، اس سے کے پی ٹی آئی بی مضبوط ہو گا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ مختلف محکمے صوبائی حکومت کو مختلف ڈیجیٹائز کی خدمات دے رہے ہیں، شہریوں کو مزید بہتر سہولیات دینے کے لیے دیگر محکموں کو بھی ڈیجیٹائز کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے:

چین انفارمیشن انفراسٹکچر پر 12 ارب ڈالر، ڈیجیٹل اکانومی کے منصوبوں پر 9.2 ارب ڈالر سرمایہ کاری کریگا

اسلام آباد میں الیکٹرک بسیں چلانے کیلئے وزارت سائنس و ٹیکنالوجی اور سی ڈی اے کے درمیان معاہدہ

وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی مواصلات کی دو سالہ کارکردگی رپورٹ جاری

اجلاس میں پبلک سیکٹر کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن سمیت ان محکوں کی بنیادی کارکردگی کے اعشاریوں اور انکی سلیکشن کے طریقہ کار بارے بتایا گیا، ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کی بدولت نجی شعبوں میں ترقی کی شرح، آئی ٹی کمپنیوں  اور سٹارٹ اپس کے معیار کو جانچا جائے گا، آئی ٹی اور اس سے متعلق گریجوایٹس کے لیے نئی نوکریوں پیدا اور ڈیجیٹل اکانومی کے لیے اعلیٰ معیار کے انسانی وسائل کی ڈویلپمنٹ کی جائے گی۔

مزید برآں، محمود خان نے اس مقصد کے لیے متعلقہ اداروں کو ہیومن ریسورس کمیٹی کی تشکیلِ نو کی ہدایت اور آئی ٹی بورڈ کو بطور ادارہ مزید مضبوط بنانے کی درخواست کی۔

انہوں نے کہا کہ “کے پی آئی ٹی بی کو صوبائی حکومت کے منصوبے کو حقیقت میں بدلنے کے لیے بنیادی کردار ادا کرنا ہوگا”۔

وزیراعلیٰ کے پی نے مزید کہا کہ آئی ٹی کے طالب علموں کے لیے نئی نوکریاں پیدا کرنا ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ “موجودہ آئی ٹی کمپنیوں، انکے ماہرین، آئی ٹی سے متعلق نوکریاں اور سالانہ آئی ٹی کے گریجوایٹس کی تعداد جاننے کے لیے ایک مستند سروے کیا جانا چاہیے اور ہر سال یہ مستند تعداد کو جاننے کے لیے ایک طریقہ کار مرتب کیا جائے گا”۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here