‘ملک کے انرجی مکس میں پن بجلی کا حصہ بڑھانے پر تیزی سے کام جاری ‘

سستی بجلی فراہم کرنے والے کئی منصوبوں پر کام جاری جبکہ متعدد پر شروع ہونے کو، انرجی مکس میں پن بجلی کا حصہ بڑھنے سے کاروباری لاگت میں بڑی کمی آئے گی

204

اسلام آباد : چئیرمین واٹر اینڈ پاور ڈیویلپمنٹ اتھارٹی ( واپڈا ) لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ مزمل حسین کا کہنا ہے کہ ملک کے انرجی مکس میں پن بجلی کے حصے میں اضافہ کیا جائے گا تاکہ کاروباری لاگت میں کمی اور معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہو سکے۔

انہوں نے یہ بات ایوان صنعت و تجارت اسلام آباد کے وفد سے ملاقات میں کہی، وفد کی سربراہی اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر محمد احمد وحید کر رہے تھے۔

واپڈا چئیرمین نے تاجروں کے وفد کو ملک میں جاری  پن بجلی کے متعدد منصوبوں بارے آگاہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دیامر بھاشا ڈیم پر کام تیزی سے جاری ہے اور اس منصوبے سے 16 ہزار مقامی افراد کو روزگار میسر آئے گا جس سے غربت میں کمی آئے گی اور علاقہ ترقی کرے گا۔

یہ بھی پڑھیے: کیا دیامر بھاشا ڈیم کی وجہ سے پانچ ہزار سال پرانے تاریخی ورثہ کو نقصان پہنچ رہا ہے؟

انہوں نے مزید کہا کہ دیامر بھاشا ڈیم دنیا کے بلند ترین مقام پر واقع ہے اور اس ڈیم کی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت 8.1 ملین ایکڑ فٹ اور بجلی کی پیداواری صلاحیت 4500 میگاواٹ ہے۔

چیئرمین واپڈا کا کہنا تھا کہ یہ ڈیم ملک کی پانی، خوراک اور توانائی کی ضروریات کے لیے اہم ہے اور اس کی تعمیر کے ملکی معیشت پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔

مزید برآں اس ڈیم سے حاصل ہونے والی سستی بجلی ملک کے زری اور صنعتی شعبہ کو بہت فائدہ پہنچائے گی۔

یہ بھی پڑھیے: دیامر بھاشا ڈیم منصوبے پر اب تک 99 ارب روپے خرچ کیے جا چکے

اس موقع پر انہوں نے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے وفد کو ملک میں پن بجلی کے زیر تعمیر منصوبوں جیسا کہ داسو، کرم تنگی اور کیال خاور ڈیموں کے حوالے سے بریف کیا۔

انہوں نے ملاقات کے لیے آنے والے دارالحکومت کے تاجروں کے اس وفد کو مزید بتایا کہ مہمند، بنجی، اور تربیلا ڈیم کی پانچویں ایکسٹینشن پر کام شروع ہونے کو ہے اور یہ تمام منصوبے ملک میں سستی بجلی کی پیداوار کے لیے کلیدی اہمیت کے حامل ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here