70ء کی دہائی میں خلا میں بھیجے گئے ناسا کے دو جہاز اس وقت زمین سے کتنے ارب کلومیٹر دور ہیں؟

وائجر وَن زمین سے 20 ارب، وائجر ٹو 17 ارب کلومیٹر دور پہنچ گیا، دونوں کے مواصلاتی آلات ایکٹو، ریڈیو سگنل زمین پر موصول ہونے اور واپس جانے میں بالترتیب 38 گھنٹے اور 30 گھنٹے لگتے ہیِں، ناسا رپورٹ

616

لاس اینجلس: امریکی خلائی ادارے ناسا کا خلائی جہاز وائجر ون (voyager 1) زمین سے 20 ارب جبکہ وائجر ٹو (Voyager 2) زمین سے 17 ارب کلومیٹر کے فاصلے پر پہنچ گیا۔

برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق 5 ستمبر 1977ء  کو لانچ کئے جانے والے وائجر ون اور 20 اگست 1977ء کو لانچ کئے جانے والے وائجر ٹو پر نصب مواصلاتی اور دیگر آلات ابھی تک کام کر رہے ہیں اور مختلف اجرام فلکی سے متعلق ڈیٹا زمین پر ارسال کر رہے ہیں۔

گذشتہ 40 برسوں کے دوران دو وائجر خلائی جہازوں نے سیارہ مشتری، زحل، یورینس اور نیپچون کا جائزہ لیا ہے۔ انھوں نے ان دنیائوں کے تفصیلی مناظر زمین پر بھیجے جن میں برف سے ڈھکے، آتش فشائوں سے اٹے اور ایندھن پر مشتمل سموگ سے بھرے چاند بھی شامل ہیں۔

جنوری 1979 میں وائجر کی جانب سے بھیجی گئے سیاے متشری کی تصویر (ناسا)

رپوڑٹ میں کہا گیا ہے دونوں خلائی مشنز نے زمین پر سائنسدانوں کے خلا سے متعلق نکتہ نظر کو تبدیل کر دیا ہے اور اپنے ساتھ منسلک سنہرے گرامو فون ریکارڈز کے ساتھ یہ انسانی تہذیب کو اپنے ساتھ ستاروں تک بھی لے جا رہے ہیں۔

جنوری 1979 میں وائجر کی جانب سے بھیجی گئے سیاے متشری کی تصویر (ناسا ویب سائٹ)

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2013ء میں وائجر ون ہمارے نظامِ شمسی کی حدود سے نکل گیا تھا، وائجر ٹو ایک مختلف راستے پر ہے اور یہ زمین سے 17 ارب کلومیٹر دور ہے۔

روشنی کی رفتار سے سفر کرنے والے ایک ریڈیو سگنکل کو وائجر ون سے زمین تک آنے اور واپس جانے میں 38 گھنٹے لگتے ہیں جبکہ وائجر ٹو کے لیے یہ وقت 30 گھنٹے کے لگ بھگ ہے، یہ سگنل ناسا کا ڈیپ سپیس نیٹ ورک وصول کرتا ہے۔

نومبر 1980ء اور اگست 1981 میں وائجر ون اور ٹو نے زحل کی تصاویر زمین پر بھیجیں (ناسا ویب سائٹ)

یہ نیٹ ورک دنیا بھر میں نصب بڑی بڑی سیٹلائٹ ڈشوں پر مبنی ہے جن کا کام دور دراز خلائی جہازوں سے ڈیٹا وصول کرنا ہے۔

وائجر خلائی جہازوں کو کیلی فورنیا میں واقع جیٹ پروپلشن لیبارٹری سے کنٹرول کیا جاتا ہے، خلائی جہاز پر نصب ٹرانسمیٹر 12 سے 20 واٹ کی طاقت سے چلتا ہے جو کسی ریفریجریٹر میں لگے بلب جتنی توانائی ہے۔

1989 میں وائجر ون اور ٹو نے نیپچون کی تصاویر زمین پر بھیجیں (فوٹو: ناسا ویب سائٹ)

وائجر منصوبے پر کام کرنے والے سائنسدان ایڈ سٹون کہتے ہیں کہ وائجر ون اب اس مادے کو چھو رہا ہے جو ہماری زیادہ تر کائنات میں بھرا ہوا ہے۔

ایڈ سٹون کی عمر 80 سال سے زیادہ ہے اور وہ 1972ء میں جیٹ پروپلشن لیبارٹری میں وائجر خلائی مشن کے ڈیزائن اور اس پر کام شروع ہونے سے اب تک اس مشن کی سربراہی کر رہے ہیں۔

وہ کہتے ہیں ’اس مشن نے زمین سے باہر موجود دنیا کے بارے میں ہمارے نکتہ نظر کو وسیع کیا ہے، ہم جہاں بھی دیکھتے ہیں ہمیں نظر آتا ہے کہ کائنات بہت زیادہ متنوع ہے۔‘

1989 میں وائجر ون اور ٹو نے نیپچون کی تصاویر زمین پر بھیجیں (ناسا)

1979ء میں اپنی لانچ کے 18 ماہ بعد وائجر ون اور وائجر ٹو نے سیارہ مشتری کا جائزہ لینا شروع کیا تھا اور اس کے بادلوں کی تصاویر اتاری تھیں۔

سٹون بتاتے ہیں کہ ’وائجر خلائی جہازوں سے پہلے تک ہم یہ سمجھتے تھے کہ آتش فشاں صرف زمین پر پائے جاتے ہیں مگر پھر ہم مشتری کے چاند آئیو کے قریب سے گزرے جو حجم میں ہمارے چاند جتنا ہی ہے اور اس پر زمین سے 10 گنا زیادہ آتش فشاں سرگرمی ہوتی ہے۔‘

1989 میں وائجر ون اور ٹو نے نیپچون کی تصاویر زمین پر بھیجیں (ناسا)

ایڈ سٹون کہتے ہیں کہ وائجر نے ہمارا نظامِ شمسی کے بارے میں وہ نکتہ نظر بالکل بدل دیا جس میں زمین ہی سب سے زیادہ اہم سیارہ تھی، وائجر سے پہلے ہم سمجھتے تھے کہ واحد مائع سمندر صرف زمین پر ہے مگر پھر ہم نے مشتری کے چاند یوروپا کی دراڑ زدہ سطح کو دیکھا اور بعد ازاں یہ پایا گیا کہ اس کی سطح کے نیچے مائع پانی کا سمندر ہے۔

’نئے چھلے اور ایک اور چاند دریافت کرنے کے ساتھ ساتھ وائجر خلائی جہاز نے زحل کے چاند ٹائٹن کا بھی جائزہ لیا۔ اس کی فضا گاڑھے پیٹرو کیمیکل سے بنی ہے اور یہاں پر میتھین کی بارش ہوتی ہے۔‘

1989 میں وائجر ون اور ٹو نے نیپچون کی تصاویر زمین پر بھیجیں (ناسا)

اس کے علاوہ وائجر مشن نے ایک اور چاند اینسیلاڈس کی قریبی تصاویر بھی بھیجیں، برطانیہ کے حجم جتنی یہ چھوٹی سی برفیلی دنیا نظامِ شمسی کا سب سے زیادہ روشنی منعکس کرنے والا جسم ہے، دونوں ہی چاندوں کا بعد میں کیسینی ہوئیگنز مشن نے جائزہ لیا اور اب سائنسدان اینسیلاڈس کو زندگی کی موجودگی کے لیے موزوں ترین جگہوں میں سے قرار دیتے ہیں۔

دی پلینٹری سوسائٹی کی سینیئر مدیر ایمیلی لکڑاوالا کے مطابق ان تمام چاندوں میں سے ہر ایک منفرد ہے۔ وائجر مشن سے معلوم ہوا کہ ہمیں زحل کے چاندوں کی نوعیت کو سمجھنے کے لیے یہاں کیسے مشن بھیجنے چاہییں۔

14 فروری 1990ء کو وائجر ٹو نے اپنے کیمروں کا رخ زمین کی طرف کر کے پورے نظامِ شمسی کی تصویر لی جس میں زمین صرف ایک پکسل پر مبنی پھیکے سے نقطے کی مانند نظر آتی ہے (ناسا)

نومبر 1980ء میں وائجر ون سیارہ زحل کو پیچھے چھوڑتا ہوا نظامِ شمسی سے باہر جانے کے اپنے طویل سفر پر نکل پڑا، دو ماہ کے بعد وائجر ٹو نے نظامِ شمسی کے سب سے باہری سیاروں کے لیے اپنی راہ پکڑی۔

1986ء میں یہ یورینس پہنچا اور اس نے گیس سے بنے اس عظیم الجثہ سیارے اور اس کے چھلّوں کی اولین تصاویر کھینچیں اور اس کے 10 نئے چاند دریافت کیے۔

ایڈ سٹون کے مطابق جب وائجر نیپچون کے چاند ٹرائٹن کے پاس سے گزرا تو ہم نے نائٹروجن کے فوارے پھوٹتے ہوئے دیکھے، ایک کے بعد ایک ہم نے زمین پر ہونے والی چیزوں کو پورے نظامِ شمسی میں ہوتے ہوئے دیکھا۔

24 جنوری 1986ء کو وائجر ٹو نے یورینس سیارے کے قریب سے گزرتے ہوئے تصاویر بنائیں (ناسا)

’انسانیت کی تاریخ میں شاید ہی کسی مہم نے ان دونوں وائجر خلائی جہازوں جتنی سائنسی کامیابیاں حاصل کی ہوں مگر ان سے ہمیں بے پناہ ٹیکنالوجیکل ورثہ بھی حاصل ہوا ہے۔‘

ایڈ سٹون کے مطابق یہ پہلا کمپیوٹر کنٹرولڈ خلائی جہاز ہے، یہ خود ہی اڑتا ہے، خود ہی کام کرتا ہے، خود ہی خود کو چیک کرتا ہے اور خود سے ہی بیک اپ نظام پر منتقل ہو سکتا ہے۔

14 فروری 1990ء کو وائجر ٹو نے اپنے کیمروں کا رخ زمین کی طرف کر کے پورے نظامِ شمسی کی تصویر لی، اس پوری تصویر میں زمین صرف ایک پکسل پر مبنی پھیکے سے نقطے کی مانند نظر آتی ہے جس سے ہمیں کائنات میں اپنی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔

24 جنوری 1986ء کو وائجر ٹو نے یورینس سیارے کے قریب سے گزرتے ہوئے تصاویر بنائیں (ناسا)

یہ خلا میں تیرنے والی ایک نہایت چھوٹی سی چیز ہے اور زمین ہی وہ جگہ ہے جہاں وہ تمام زندگی موجود ہے جسے ہم جانتے ہیں۔ یہ ایک قیمتی تصویر ہے جو ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ کائنات میں ہمارا مقام کس قدر نازک اور چھوٹا ہے۔

2013ء میں وائجر ون نے وہ سرحد عبور کر لی جو سورج کے پیدا کردہ مقناطیسی میدان اور ستاروں کے درمیان موجود خلا کے درمیان ہے، وائجر ون اب خلا میں چلتا ہی جا رہا ہے اور آنے والے چند سالوں میں وائجر ٹو بھی نظامِ شمسی سے باہر نکل جائے گا۔

چونکہ یہ وائجر ون سے مختلف زاویے سے نظامِ شمسی سے باہر نکلے گا، اس لیے سائنسدانوں کو اس کے ذریعے شمسی بلبلے کی ساخت کے بارے میں مزید معلومات حاصل ہوں گی۔

ایڈ سٹون کہتے ہیں کہ وائجر خلائی جہاز اربوں سالوں تک کہکشاں کے گرد گردش کرتے رہیں گے۔

وائجر کی پروگرام مینیجر سوزی ڈوڈ کہتی ہیں کہ شاید اگلے 10 سالوں میں کسی دن وائجر ون اور وائجر ٹو  کو بند کرنا پڑے گا مگر ایک طرح سے دیکھیں تو وائجر مشن شاید ہمیشہ چلتا رہے اور شاید یہ انسانی تہذیب سے بھی زیادہ عرصے تک قائم رہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here