وزیراعظم کی سرکاری سبسڈیز کو شفاف بنانے کیلئے قابل عمل لائحہ عمل مرتب کرنے کی ہدایت

غیر مستحق افراد کا سبسڈیز کے نظام سے فائدہ اٹھانا نہ صرف سرکاری وسائل کا ضیاع بلکہ حقداروں کی حق تلفی بھی ہے، اجلاس سے خطاب

103

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ غیر مستحق افراد کا سبسڈیز کے نظام سے فائدہ اٹھانا نہ صرف سرکاری وسائل کا ضیاع ہے بلکہ حقداروں کی حق تلفی کا باعث بنتا ہے لہٰذا اس نظام میں اصلاحات حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

وہ سوموار کو حکومت کی جانب سے مختلف شعبوں میں فراہم کی جانے والی سبسڈی کے نظام کو شفاف اور منظم بنانے اور اس معاونت کو حقدار تک پہنچانے کو یقینی بنانے کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔

اجلاس میں وزیر برائے صنعت محمد حماد اظہر، مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، مشیر تجارت عبدالرزاق دائود، معاونین خصوصی ڈاکٹر ثانیہ نشتر، ڈاکٹر شہباز گل، سابق سیکرٹری خزانہ ڈاکٹر وقار مسعود و دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔ سابق

وزیرِ خزانہ شوکت ترین، سلطان علی الانہ، عارف حبیب، ڈاکٹر اعجاز نبی ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے۔

وزیراعظم میڈیا آفس کے مطابق حکومت کی جانب سے مختلف شعبوں میں بالواسطہ اور بلاواسطہ فراہم کی جانے والی سبسڈیز کی مقدار اور اس نظام میں اصلاحات کے حوالے سے مختلف تجاویز پر غور کیا گیا۔

وزیرِاعظم عمران خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سبسڈی کے معاملے میں حکومت کی ترجیحات نہایت واضح ہیں۔ سرکاری خزانے سے فراہم کی جانے والی سبسڈیز کا مقصد معاشرے کے کمزور طبقوں کی معاونت اور سماجی و معاشی ترقی کا فروغ ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ غیرمستحق افراد کا سبسڈیز کے نظام سے فائدہ اٹھانا نہ صرف سرکاری وسائل کا زیاں ہے بلکہ حقداروں کی حق تلفی کا باعث بنتا ہے لہٰذا اس نظام میں اصلاحات حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

اجلاس میں زیر غور آنے والی تجاویز پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے تھنک ٹینک کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ حکومتی ترجیحات کو مد نظر رکھتے ہوئے ہر قابل عمل تجویز کے حوالے سے لائحہ عمل مرتب کیا جائے تاکہ مرحلہ وار ان پر عملدرآمد کیا جا سکے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here