کس رکن پارلیمنٹ نے کتنا ٹیکس دیا اور کس نے نہیں دیا؟ تفصیلات جاری

پی ٹی آئی کی کنول شوذب نے سب سے کم 165 روپے، ق لیگ کے میجر طاہر صادق نے 214 روپے، مرزا محمد آفریدی 910 روپے ٹیکس دیا، فیصل واوڈا، زرتاج گل سمیت پانچ وفاقی وزراء، 57 اراکین اسمبلی نے ایک روپیہ بھی ٹیکس ادا نہیں کیا

300

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے 30 جون 2018ء کو ختم ہونے والے مالی سال کیلئے اراکین پارلیمنٹ کی جانب سے ادا کردہ ٹیکس کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔

ایف بی آر کی جاری کردہ ڈٓائریکٹری برائے ٹیکس سال 2018ء کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے 2 لاکھ 82 ہزار 449 روپے ٹیکس ادا کیا، قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے 87 لاکھ 5 ہزار 368 روپے، ان کے بیٹے حمزہ شہباز نے 87 لاکھ 5 ہزار 368 روپے ٹیکس  دیا جبکہ  سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اراکین پارلیمنٹ میں سب سے زیادہ 24 کروڑ 20 لاکھ 98 ہزار روپے انکم ٹیکس ادا کیا۔

سابق صدر آصف علی زرداری نے 28 لاکھ 91 ہزار 455 روپے، بلاول بھٹو زرداری نے 2 لاکھ 94 ہزار 117 روپے، امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے 2 لاکھ 16 ہزار 800 روپے ٹیکس ادا کیا۔

اسی طرح چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے 13 لاکھ 63 ہزار روپے، سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے 2 لاکھ 67 ہزار 380 روپے، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا نے 15 لاکھ 91 ہزار روپے، پیپلز پارٹی  کے فاروق ایچ نائیک نے 64 لاکھ 71 ہزار روپے، مصطفی نواز کھوکھر نے 41 لاکھ 22 ہزار روپے ٹیکس دیا۔

سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے 5 لاکھ 37 ہزار 730 روپے، سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الٰہی نے 20 لاکھ 71 ہزار 196 روپے، سپیکر بلوچستان اسمبلی عبد القدوس بزنجو نے 11 لاکھ 88 ہزار 800 روپے، سپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی نے 5 لاکھ 62 ہزار 992 روپے اور سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی مشتاق احمد غنی نے 2 لاکھ 8 ہزار 174 روپے ٹیکس ادا کیا۔

ایف بی آر ڈائریکٹری کے مطابق وفاقی وزراء میں سب سے زیادہ ٹیکس وزیر قانون سینیٹر فروغ نسیم نے 3 کروڑ 51 لاکھ 35 ہزار روپے ادا کیا، وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے 24 لاکھ 35 ہزار 650 روپے،

وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے 16 لاکھ 98 ہزار 651 روپے، وزیر برائے بحری امور علی زیدی نے 8 لاکھ 96 ہزار 191 روپے، وزیر مواصلات مراد سعید نے 3 لاکھ 74 ہزار 728 روپے، وزیر ہوابازی غلام سرور خان نے 10 لاکھ 46 ہزار روپے ٹیکس ادا کیا۔

وزیر دفاع پرویز خٹک نے 18 لاکھ 26 ہزار 899 روپے، وزیر تعلیم شفقت محمود نے دو لاکھ 31 ہزار 730 روپے، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک لاکھ 83 ہزار 900 روپے، وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے 5 لاکھ 79 ہزار 11 روپے، وزیر اطلاعات شبلی فرازنے 3 لاکھ 67 ہزار 460 روپے، وزیر منصوبہ بندی و ترقیات اسد عمر نے 53 لاکھ 46 ہزار 342 روپے، وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر نے 5 کروڑ 94 لاکھ 42 ہزار 700 روپے، وفاقی وزیر خسرو بختیار نے 6 لاکھ 24 ہزار 292 روپے، وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے 58 ہزار 120 روپے ٹیکس ادا کیا۔

پی ٹی آئی کے کراچی سے رکن اسمبلی نجیب ہارون نے 14 کروڑ 36 ہزار روپے ٹیکس دیا اور وہ سب سے زیادہ ٹیکس دینے والے اراکین میں دوسرے نمبر پر رہے۔ مسلم لیگ ق کے مونس الٰہی نے 51 لاکھ 68 ہزار روپے، ایم کیو ایم پاکستان کے خالد مقبول صدیقی نے ایک لاکھ 83 ہزار 900 روپے، پیپلز پارٹی کے سنیئر رہنما کے خورشید شاہ نے 3 لاکھ 5 ہزار روپے ٹیکس دیا۔

پی ٹی آئی کے سینیٹر اعظم خان سواتی نے 5 لاکھ 90 ہزار 916 روپے، مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر چوہدری تنویر نے 32 لاکھ 38 ہزار 733 روپے، رانا ثناءاﷲ نے 13 لاکھ 88 ہزار 275 روپے، پی ٹی آئی کے فرخ حبیب نے ایک لاکھ 83 ہزار 727، ریاض فتیانہ نے 11 ہزار روپے ٹیکس ادا کیا۔

مسلم لیگ ن کے سینیٹر مصدق ملک نے 25 لاکھ روپے، مسلم لیگ ن کی رہنما مریم اورنگ زیب نے دو لاکھ 81 ہزار 883 روپے، خواجہ آصف نے 43 لاکھ 71 ہزار 129 روپے جبکہ خواجہ سعد رفیق نے 29 لاکھ 49 ہزار 200 روپے ٹیکس دیا۔ سینیٹر محسن عزیز نے 12 لاکھ 30 ہزار روپے، ڈاکٹر اشوک کمار نے 69 لاکھ 98 ہزار روپے، سینیٹر امام دین شوقین نے 97 لاکھ 99 ہزار روپے، سینیٹر طلحہ محمود نے 2 کروڑ 92 لاکھ 10 ہزار روپے ٹیکس ادا کیا

بی این پی کے اختر مینگل نے 13 لاکھ 24 ہزار 375 روپے، مولانا اسعد محمود 7 ہزار روپے، وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین گنڈا پور نے 3 لاکھ 78 ہزار 763 روپے، پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی نور عالم خان نے 30 ہزار 458 روپے، پیپلز پارٹی کے مولا بخش چانڈیو نے 5 ہزار 632 روپے ٹیکس ادا کیا۔

چاروں صوبوں کے وزرائے اعلی میں سب سے زیادہ ٹیکس وزیراعلیٰ بلوجستان جام کمال نے 48 لاکھ 8 ہزار 948 روپے ادا کیا۔ وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے 10 لاکھ 22 ہزار 184 روپے اور وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے دو لاکھ 35 ہزار 982 روپے ٹیکس جمع کروایا جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کوئی رقم ٹیکس کی مد میں ادا نہیں کی۔

سب سے کم ٹیکس دینے والے اراکین

مسلم لیگ ق کے میجر طاہر صادق نے 214 روپے، کنول شوذب نے 165 روپے، عطاءاﷲ 517 روپے، ذوالفقار باچانی 388 روپے، مرزا محمد آفریدی 910 روپے ٹیکس دیا۔

جنہوں نے بالکل ٹیکس ادا نہیں کیا

قومی اسمبلی میں ٹیکس نہ دینے والوں میں 57 ایم این اے شامل ہیں جبکہ وفاقی کابینہ کے پانچ ارکان  نے بھی 2018ء میں کوئی ٹیکس ادا نہیں کیا۔ وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واوڈا، وفاقی وزیر برائے مذہبی امور پیر نور الحق قادری، وفاقی وزیر برائے سیفران صاحبزادہ محبوب سلطان، وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل، وزیر مملکت برائے ہاوسنگ اینڈ ورکس شبیر علی نے سنہ 2018 میں ایک روپیہ بھی ٹیکس کی مد میں ادا  نہیں کیا  تاہم یہ پانچوں وزراء اس وقت وفاقی وزیر نہیں تھے کیونکہ یہ 2018 کے الیکشن کے پہلے کے ٹیکس گوشوارے ہیں، صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان نے بھی کوئی ٹیکس ادا نہیں کیا۔

سابق وزیر صحت عامر محمود کیانی، سینیٹر فیصل جاوید، پی ٹیم ایم کے رہنما محسن داوڑ اور ناز بلوچ  سمیت  177 قومی و صوبائی ممبران اسمبلی اور سینیٹرز نے  کوئی رقم  ٹیکس کی مد میں ادا نہیں کی۔

اسی طرح رکن اسمبلی ملک انور تاج، جواد حسین، عبدالشکور، شیخ راشد شفیق، منصور حیات خان، چوہدری ذوالفقار بھنڈر، علی گوہر خان، امیر سلطان، ملک کرامت علی کھوکھر، سعد وسیم، احمد رضا مانیکا، ارادت شریف خان، رائے مرتضیٰ اقبال، ظہور حسین قریشی، مخدوم زین حسین قریشی، محمد ابراہیم خان، چوہدری فقیر احمد، نور الحسن تنویر، سید مبین احمد، محمد شبیر علی، رضا ربانی، سید باسط سلطان، نیاز احمد جھکڑ، خواجہ شیراز محمود، نوید گھیرو، جمیل احمد خان، آغا حسن بلوچ، سید محمود شاہ، محمد اسلم بھوتانی، عاصمہ حدید، عالیہ حمزہ ملک، سیمی بخاری، فوزیہ بہرام، روبینہ جمیل، رخسانہ نوید، فرخ خان، شمیم آراءکنول، صائمہ ندیم، نصرت واحد، شمیم آفریدی، فیصل جاوید، رانا مقبول احمد، محمد بشیر خان، محمد سجاد نے مالی سال 2018ء میں کوئی ٹیکس نہیں دیا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here