پاکستان کون سے پانچ شعبوں کو براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کیلئے اولین ترجیح دے رہا ہے؟

پالیسی فریم ورک ویب سائٹ پر لا رہے ہیں تاکہ بیرونی سرمایہ کاروں کو معلوم ہو پاکستان کونسی  سہولیات اور مراعات دے رہا ہے، چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ عاطف بخاری

80

اسلام آباد: وزیر مملکت اور چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ عاطف بخاری نے کہا ہے کہ حکومت ملک میں سرمایہ کاری، جامع معاشی ترقی، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا، صنعتی ترقی اور پاکستان میں برآمدی پیداوار کو فروغ دینے جیسے اہداف کے حصول کیلئے کوشاں ہے، براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری لانے کے لئے پانچ شعبوں کو اولین ترجیحات میں رکھا گیا ہے۔

جمعرات کو سرکاری خبر رساں ایجنسی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایسی پالیسیاں مرتب کرنا ہماری ترجیح ہے جس سے براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری لائی جا سکے جس کے لئے سرمایہ کاری بورڈ نے پانچ شعبوں کو ترجیح بنایا ہے، ان شعبوں میں آئی ٹی انڈسٹری، ہاﺅسنگ اور تعمیرات، فوڈ پراسیسنگ و زراعت، سیاحت اور لاجسٹکس شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پالیسی فریم ورک کو سرمایہ کاری بورڈ کی ویب سائٹ پر بھی لا رہے ہیں تاکہ سرمایہ کاروں کو بتایا جا سکے کہ پاکستان ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کو کیا سہولیات اور مراعات فراہم کر رہا ہے۔

عاطف بخاری نے کہا کہ متعلقہ وزارتوں کے تعاون سے حال ہی میں الیکٹریکل وہیکلز اور موبائل فونز کی مقامی سطح پر تیاری کیلئے پالیسیاں بنائی ہیں۔ ان دونوں کے حوالے سے چین بلکہ یورپی ممالک کے سرمایہ کاروں کی دلچسپی بھی نظر آ رہی ہے۔ بہت سی ملٹی نیشنل کمپنیاں اس میں سرمایہ کاری کی خواہاں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کاروبار میں آسانی پیدا کرنے کے لئے بہت کام ہوا ہے، کووڈ۔19 کی وجہ سے جو سلسلہ رک گیا تھا وہ اب دوبارہ شروع ہو گیا ہے جس کی تازہ مثال یہ ہے کہ آسٹریلیا کا ایک وفد آیا تھا جس نے شمالی علاقہ جات میں سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔

چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ نے کہا کہ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے لئے اولین ضرورت امن و امان کی صورتحال ہوتی ہے اور گزشتہ دو سالوں میں امن و امان کی صورتحال میں بہت بہتری آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کووڈ۔19 ایک بہت بڑا چیلنج تھا، اگر یہ نہ ہوتا تو پوری دنیا سے بڑے سرمایہ کار پاکستان آ چکے ہوتے۔ یورپ اور امریکا سے بڑی کمپنیاں بھرپور دلچسپی لے رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سی پیک کے تحت اقتصادی زونز کے قیام سے ایک خوشحال اور صنعتی پاکستان بنے گا۔ ان زونز میں ٹیکسٹائل انجینئرنگ، بجلی اور الیکٹرانکس، کیمیکل پینٹ، زراعت اور فوڈ پروسیسنگ، اسٹیل اور پیکیجنگ کے شعبے میں صنعتیں قائم کی جائیں گی۔

پاک چین جغرافیائی قربت ان اقتصادی زونز کی آباد کاری اور باہمی معاشی فوائدکے حصول میں معاون ثابت ہو رہے ہیں۔ سرمایہ کاری بورڈ نے اقتصادی زونز کو تمام سہولیات کی فراہمی و مراعات دینے کا عمل تیز کر دیا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here