ماربل اور گرینائیٹ کی 45 ارب ڈالر کی عالمی مارکیٹ میں پاکستان کا حصہ محض 2 فیصد کیوں؟

چین، اٹلی پاکستان سے سستا خام مال لیکر ویلیو ایڈ کرکے ہمیں مہنگا فروخت کر رہے ہیں، حکومت توجہ دے تو گرینائیٹ کی برآمدات میں 200 فیصد اضافہ ممکن ہے،  نائب صدر ایف پی سی سی آئی

119

اسلام آباد: وفاق ایوان ہائے صنعت و تجارت (ایف پی سی سی آئی) کے نائب صدر قیصر خان داﺅدزئی نے کہا ہے کہ دنیا میں ماربل اور گرینائیٹ کی پیداوار میں پاکستان کا چھٹا نمبر ہے مگر 45 ارب ڈالر کی تجارت میں اس کا حصہ 2 فیصد سے بھی کم ہے۔

ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اعلیٰ معیار کے ماربل اور گرینائیٹ کے 297 ارب ٹن کے ذخائر موجود ہیں جن سے بھاری زرمبادلہ کمایا جا سکتا ہے تاہم خام مال کی برآمد نے اس شعبہ کی ترقی کو روک رکھا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دیگر ممالک پاکستان سے کوڑیوں کے مول خام مال خرید کر بھاری منافع کما رہے ہیں۔ اس وقت صرف 10 فیصد ویلیو ایڈڈ ماربل اور گرینایٹ برآمد کیا جا رہا ہے جبکہ باقی خام مال ہوتا ہے جس کی کم قیمت ملتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماربل کے 80 فیصد سے زیادہ ذخائر صوبہ خیبرپختونخوا میں واقع ہیں جبکہ باقی ماندہ بلوچستان اور سندھ میں ہیں۔ امن و امان کی صورتحال، توانائی بحران ، قرضوں کی عدم فراہمی اور دیگر مسائل کی وجہ سے ماربل کی سالانہ پیداوار صرف 25 لاکھ ٹن ہے جسے بڑھانے کیلئے مرکزی اور صوبائی حکومتوں کی بھرپورتوجہ کی ضرورت ہے۔

قیصر خان داﺅدزئی نے کہا کہ مقامی صنعت کی کمزوری کی وجہ سے چین اور اٹلی بڑی مقدار میں ماربل اور گرینائیٹ درآمد کرتے ہیں اور اس میں ویلیو ایڈ کر کے اسے پاکستان سمیت کئی ممالک کو برآمد کر دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر حکومت آسان شرائط پر جدید مشینری درآمد کر کے کاروباری برادری کو فراہم کرے تو پاکستان ماربل اور گرینائیٹ کی 45 ارب ڈالر کی منڈی میں بڑا حصہ وصول کر سکتا ہے۔ توجہ دینے سے پاکستان کی گرینایٹ کی برآمدات میں 200 فیصد اضافہ ممکن ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here