2022ء تک چین کی سمارٹ سٹی مارکیٹ 25 کھرب یوآن مالیت کی ہو جائے گی

چائنا موبائل اور علی بابا گروپ کا ڈاہوا ٹیکنالوجی کمپنی کے ساتھ 443 ملین ڈالر سرمایہ کاری کا معاہدہ، ایک دوسرے کی ٹیکنالوجیز سے فائدہ اٹھا سکیں گے 

69

ہانگ کانگ: چین کی ٹیلی مواصلات کمپنی چائنا موبائل اور ملٹی نیشنل علی بابا گروپ جیانگ ڈاہوا ٹیکنالوجی کمپنی کے ساتھ 443 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری پر غور کر رہے ہیں۔

چائنا موبائل گروپ ڈاہوا کے ساتھ 40 ارب یوآن کے ایک علیحدہ تین سالہ تجارتی معاہدے پر بھی بات چیت کر رہا ہے جس کے تحت اسے ڈاہوا کے بڑے ڈیٹا اور کلائوڈ کمپیوٹنگ خدمات ، ویڈیو نگرانی کے سازوسامان اور انٹرنیٹ آف تھنگ (آئی او ٹی) جیسی ٹیکنالوجیز کے استعمال کا موقع ملے گا۔

چائنا موبائل اور علی بابا گروپ اس حوالے سے کسی تبصرے سے گریز کر رہے ہیں جبکہ ڈاہوا نے ایسے کسی معاملے سے لاعلمی ظاہر کی ہے۔

تاہم یہ امر قابل ذکر ہے کہ چینی حکومت اس وقت عوامی مقامات پر لاکھوں کیمروں کی تنصیب اور چہرے کی شناخت جیسی تکنیک کے حامل 500 سے زیادہ سمارٹ شہر تعمیر کر رہی ہے۔

ایک تحقیق کے مطابق 2018ء میں 7.9 کھرب یوآن کے مقابلے میں 2022ء تک چین کی سمارٹ سٹی مارکیٹ کی قیمت 25 کھرب یوآن ہو جائے گی کیونکہ کورونا کی وبا کے باعث عالمی سطح پر تھرمل کیمروں کی طلب بڑھی ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے نے اپریل میں جاری اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ ایمازون ڈاٹ کام نے چینی کمپنی سے 1500 کیمرے خریدے ہیں جبکہ درجہ حرارت معلوم کرنے والے آلات کے حوالے سے 10 ملین ڈالر کا معاہدہ بھی عنقریب طے پا جائے گا۔

واضح رہے کہ امریکہ نے گزشتہ سال نگرانی کا سازوسامان بنانے والی جن کمپنیوں کو بلیک لسٹ کیا تھا اُن میں چین کی دوسری بڑی کمپنی ڈاہوا بھی شامل ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here