اپوزیشن کی مخالفت کے باوجود حکومت ایف اے ٹی ایف سے متعلقہ بل پاس کرانے میں کامیاب

انسداد منی لانڈرنگ بل پر بلاول بھٹو کو بات کرنے سے روکنے پر اپوزیشن کا احتجاج، نعرے بازی، سپیکر ڈیسک کا گھیرائو، ایوان سے واک آئوٹ

80

اسلام آباد: اپوزیشن کے پرزور احتجاج اور مخالفت کے باوجود حکومت پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے ایکشن پلان پر عملدرآمد سے متعلقہ تین بل پاس کروانے میں کامیاب ہو گئی۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کی صدارت سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کی جبکہ وزیراعظم عمران خان نے چیئرمین سینٹ کے ہمراہ اجلاس میں شرکت کی۔

وقف املاک بل 2020ء کی منظوری

اجلاس کے آغاز میں وزیراعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے تحریک پیش کی کہ وقف املاک کے بہتر انتظام و انصرام کے لئے اسلام آباد دارالحکومت علاقہ جات وقف املاک بل 2020ء زیر غور لایا جائے جس پر اپوزیشن کی طرف سے 190 ارکان نے مخالفت کی جبکہ حکومت کی طرف سے پہلی خواندگی کے حق میں 200 ارکان نے اپنی رائے کا اظہار کیا۔

یہ بھی پڑھیے: اسلام آباد کیپیٹل ٹیرٹری وقف املاک بل 2020ء کیا ہے؟

تاہم اس موقع پر سینیٹر رضا ربانی نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کے مشیر وفاقی وزیر کے برابر عہدہ رکھ سکتے ہیں تاہم ایگزیکٹو کا کردار ادا نہیں کر سکتے۔ مشیر اور معاون خصوصی ایوان میں تحریک اور بل پیش نہیں کر سکتے۔

وزیر قانون فروغ نسیم نے رضا ربانی کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ معاونین خصوصی سے متعلق ہے، عدالتی فیصلے میں کوئی پابندی نہیں لگائی گئی کہ یہ بل پیش نہیں کر سکتے۔

پہلی خواندگی کی ایوان سے منظوری کے بعد سپیکر نے یکے بعد دیگر ایوان سے بل کی تمام شقوں پر منظوری حاصل کی۔

اپوزیشن کی طرف سے سینیٹر محمد مشتاق کی پیش کردہ ترامیم مسترد کر دی گئیں جبکہ حکومت کی طرف سے کنول شوذب کی ترامیم منظور کر لی گئیں۔

اینٹی منی لانڈرنگ (دوسری ترمیم) بل 2020ء کی منظوری

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010ء میں مزید ترامیم کیلئے اینٹی منی لانڈرنگ (دوسری ترمیم) بل 2020ء کی منظوری بھی دی۔

اس بل کی منظوری کی تحریک بھی مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان کی جانب سے پیش کی گئی، ایوان نے پہلی خواندگی کی کثرت رائے سے منظوری دے دی جس کے بعد سپیکر قومی اسمبلی نے یکے بعد دیگرے بل کی تمام شقوں کی منظوری حاصل کی۔

بل کی بعض شقوں میں حکومت کی طرف سے پارلیمانی سیکریٹری برائے قانون و انصاف ملیکہ علی بخاری کی ترامیم منظور کر لی گئیں جبکہ سپیکر کے بار بار کہنے کے باوجود اپوزیشن کی طرف سے شاہد خاقان عباسی اور دیگر نے اپنی ترامیم پیش نہیں کیں۔

اس دوران پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بل کے حوالے سے اظہار خیال کرنا چاہا تاہم وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جس رکن نے ترمیم پیش کی ہے وہی بول سکتا ہے، بلاول بھٹو بات نہیں کر سکتے۔

سپیکر نے کہا کہ اس حوالے سے قواعد واضح ہیں، ہم قواعد کے مطابق چلنا چاہتے ہیں۔ وزیراعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے آئین کے آرٹیکل 131 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ترمیم کا محرک ہی اپنی ترمیم کے حق میں بات کر سکتا ہے اس کے بغیر کوئی دوسرا رکن بات نہیں کر سکتا تاہم اپوزیشن کا اصرار تھا کہ بل پر اپوزیشن کو عام بحث کے لئے وقت دیا جائے۔

سپیکر نے اپوزیشن کے اس مطالبہ کو مسترد کر دیا جس پر اپوزیشن ارکان سپیکر ڈیسک کے گرد جمع ہو گئے اور انہوں نے نعرے بازی شروع کر دی۔ تھوڑی دیر بعد تمام اپوزیشن جماعتوں کے ارکان ایوان سے واک آﺅٹ کر گئے۔

قبل ازیں سینیٹ نے کوآپریٹو سوسائٹیز (ترمیم) بل 2020ء کی منظوری دے دی، مذکورہ بل کی تحریک بھی سینیٹ اجلاس میں مشیر پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے پیش کی۔

 

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here