حکومت، آئی ایم ایف نے نجکاری کیلئے 12 سرکاری املاک شارٹ لسٹ کر لیں

154

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ مشاورت سے 12 سرکاری املاک کی نجکاری کی فہرست تیار کر لی ہے، ان اداروں کی مرحلہ وار نجکاری کی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق حکومتی سرپرستی سے چلنے والے اداروں پر کابینہ کی نجکاری کمیٹی نے حال ہی میں فنانس ڈویژن کی جانب سے جمع کرائی گئی سمری پر غور کیا اور تجویز کردہ اداروں کی نجکاری اور تنظیم نو کے لیے پیش کردہ فہرست کی منظوری دی۔

ذرائع نے کہا ہے کہ مجوزہ اداروں کی کیٹیگریز کی بنیاد پر ایک ایک کرکے جائزہ لیا گیا، کمیٹی نے مشورہ دیا کہ سرکاری املاک اور اداروں کی نجکاری مرحلہ وار ہونی چاہیے، حکومت صرف انہی اداروں یا املاک کو اپنے ماتحت رکھے گی جنہیں وہ بہ خوبی چلا سکے، اس کے علاوہ حکومت نجی سیکٹر کے اداروں کو اپنے ماتحت نہیں لے سکے گی۔

یہ بھی پڑھیے:

آڈیٹر جنرل آف پاکستان کا آڈٹ، خزانہ ڈویژن کے افسر کی تعینانی غیر قانونی کیوں؟

سٹیل ملز کی نجکاری کے لیے ٹرانزیکشن ایڈوائزرز کی تعیناتی پر سوالات کھڑے ہو گئے

کابینہ اجلاس: اینٹی ملیریئل ڈرگز، حفاظتی لباس برآمد کرنے، زندگی بچانے والی 250 ادویات کی ریٹیل پرائسنگ کی منظوری

ذرائع کے مطابق متعلقہ وزارتوں سے مشاورت کے بعد ہاؤس بلڈنگ فنانس کمپنی لمیٹڈ، نیشنل انجنئرنگ سروسز پاکستان لمیٹڈ، نیشنل انویسٹمنٹ ٹرسٹ لمیٹڈ، اوورسیز ایمپلائمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ، پاکستان انوائرنمنٹ پلاننگ اینڈ ایگریکلچرل کنسلٹنٹس لمیٹڈ، پاکستان ایکسپو سینٹرز لمیٹڈ، پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن لمیٹڈ، پاکستان ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن، سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ، سوئی سدرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ، یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن اور زرعی ترقیاتی بینک کی آئندہ مرحلے میں نجکاری کی جائے گی۔

اس دوران کمیٹی نے مشاہدہ کیا کہ فنانس ڈویژن کے تحت جوائنٹ انویسٹمنٹ کمپنیز مؤثر انداز میں اپنی کارکردگی نہیں دکھا رہیں اس لیے ان کے حوالے سے درست اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

کمیٹی نے فنانس ڈویژن کو آئی ایم ایف کے فیڈ بیک پر نجکاری کے عمل میں ضروری ایڈجسٹمنٹ کرنے کی ہدایت کی، جو مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات ڈاکٹر عشرت حسین کی مشاورت سے کی جائے گی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here