پاکستان میں غریب گھرانے تمباکو نوشی پر امیر گھرانوں سے زیادہ خرچ کرتے ہیں : تحقیق

ملک میں پینتالیس فیصد گھرانوں میں سگریٹ نوشی ہوتی ہے، مارکیٹ میں غیر قانونی سستی سگریٹ کی بھر مارہے جس کا صارف نچلا طبقہ ہے،غیر قانونی برینڈز سگریٹ نوشوں کو مائل کرنے کے لیے فوری انعامات کے لالچ کا استعمال کرتے ہیں، کم آمدنی والے گھرانے اپنی آمدنی کا تین فیصد سگریٹ نوشی پر خرچ کرتے ہیں جس کا اثر ان کے معیار زندگی پر پڑتا ہے۔

76

لاہور : تمباکو نوشی پر خرچ کی جانے والی رقم کے حوالے سے ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پاکستان میں کم آمدنی والے گھرانوں کا تمباکو نوشی پر خرچ  زیادہ آمدنی والے گھرانوں کی نسبت زیادہ ہے۔

اس تحقیق کا نام ‘ تمباکو نبوشی کے پاکستانی گھرانوں پر اثرات ‘ تھا اور یہ سوشل پالیسی اینڈ ڈیویلپمنٹ سنٹر کی جانب سے کی گئی جس میں ترقی کرتی تمباکو انڈسٹری، غریب، متوسط اور امیر گھرانوں میں تمباکو نوشی پر آمدنی کے خرچ کا جائزہ لیا گیا۔

تحقیق میں کہا گیا ہےکہ غریب اور متوسط طبقہ زیادہ ترسستی اورغیر قانونی سگریٹ استعمال کرتا ہے اور مارکیٹ میں نان ڈیوٹی سگریٹ کی دستیابی کی وجہ سے غریب طبقہ امیر طبقے کی نسبت تمباکو نوشی پر زیادہ پیسہ خرچ کرتا ہے۔

اس تحقیق کے نتائج پاکستان میں تمباکو کے کنٹرول کے حوالے سے پالیسی کی اہمیت کو واضح کردیتے ہیں۔

اس میں کہا گیا ہےکہ تمباکو اور غربت کا آپس میں بڑا گہرا تعلق ہے لہذا تمباکو کننٹرول پالیسی کو غربت کے خاتمے کے پروگرامز کا حصہ ہونا چاہیے۔

ایک حالیہ سروے کے مطابق  پاکستان میں اوسطً گھرانوں کی آمدنی میں نہیں بلکہ ان کے اخراجات میں اضافہ ہورہا ہے۔  صورتحال تب زیادہ خراب ہوجاتی ہے جب اخراجات غیر ضروری چیزوں پر ہورہے ہوں اور معیشت ٹیکس چوری کی وجہ سے زبوں حالی کا شکار ہو۔

غیر ضروری اخراجات میں ایک تمباکو نوشی پر اُٹھنے والا خرچہ بھی ہے اور مجودہ ملکی معاشی صورتحال میں اسکا گھرانوں پر کیا اثر پڑتا ہوگا یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں۔

اس تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پاکستان میں کم آمدنی اور غریب گھرانوں کی تعداد متوسط اور بالائی متوسط طبقے سے زیادہ ہے اور تمباکو نوشی پر کیے جانے والے اخراجات کا ان کی آمدنی پر بہت اثر پڑتا ہے۔

تحقیق میں مزید کہا گیا ہے کہ تقریباً پینتالیس فیصد پاکستانی گھرانوں میں سگریٹ نوشی کی جاتی ہے۔ تمباکو نشی والے گھرانوں سے مراد وہ گھر ہیں جہاں کم از کم ایک فرد سگریٹ پیتا ہو۔

اس طرح کے گھرانوں کی آمدنی کا اوسطً تین فیصد تمباکو نوشی پر خرچ ہوتا ہے۔ مزید برآں غریب گھرانوں میں تمباکو نوشی پر امیر گھرانوں کی نسبت زیادہ پیسہ خرچ ہوتا ہے جس کا اثر ان کے معیار زندگی پر پڑتا ہے۔

تمباکو نوشی کے باعث صحت کےمسائل پیدا ہوتے ہیں اور یوں علاج معالجے پر وسائل خرچ ہونے کی وجہ سے غریب آمدنی والے گھرانوں کے پاس تعلیم اور تفریح کے لیے بہت محدود وسائل بچتے ہیں۔

ماہرین کہتے ہیں کہ مارکیٹ میں سمگل شدہ سگریٹ کی سستے داموں دستیابی بھی غریب گھرانوں میں تمباکو نوشی کے بڑھنے کی ایک وجہ ہے ۔

اگرچہ حکومت نے سگریٹ کی ڈبی کی کم سے کم قیمت 63 روپے مقرر کررکھی ہے مگر کچھ غیر قانونی برینڈز کی سگریٹ کی ڈبی پچیس سے تیس روپے میں مارکیٹ میں با آسانی دستیاب ہے۔

حکومت تمباکو نوشی کی حوصلہ شکنی کے لیے ہر سال سگریٹ پر ٹیکس بھی بڑھاتی ہے مگر غیر قانونی سگریٹ کی مارکیٹ میں دستیابی اس قسم کے اقدامات کو بے سود بنا دیتی ہے۔

ملکی مارکیٹ میں غیر قانونی سگریٹ اوراس کے بنانے والوں کا حصہ چالیس فیصد ہے۔ یہ چیز خاندانوں کی آمدن کو تو نقصان پہنچا ہی رہی ہے مگر اس سے ملکی خزانے کو بھی سالانہ چوالیس ارب روپے کا نقصان ہورہا ہے۔

مقامی غیر قانونی برینڈز تمباکو انڈسٹری سے حاصل ہونے والے ریونیو کا صرف دو فیصد ادا کرتے ہیں ۔ حد تو یہ ہے کہ یہ غیر قانونی برینڈز اپنی سیل بڑھانے کے لیے تمباکو نوشوں کو فوری انعام کا لالچ بھی دیتے ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here