’رشکئی سپیشل اکنامک زون سے روزگار کے 50 ہزار مواقع پیدا ہوں گے‘

112

اسلام آباد: سی پیک سیکرٹریٹ کے مطابق رشکئی سپیشل اکنامک زون منصوبے سے مقامی لوگوں کو روزگار کے تقریباً 50 ہزار بالواسطہ جبکہ لاکھوں بلا واسطہ مواقع میسر آئیں گے جس سے  وزیراعظم پاکستان کے 50 لاکھ ملازمتیں دینے کے وژن کی خاطر خواہ معاونت میں مدد ملے گی۔

سی پیک سیکرٹریٹ کے حکام کے مطابق رشکئی سپیشل اکنامک زون کے تمام لوازمات کو حتمی شکل دے کر جلد کام شروع کرنے اور اسے ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور واضح کیا کہ منصوبے کی تکمیل کیلئے ٹائم لائن اور اس کے معیار پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

حکام نے کہا کہ رشکئی سپیشل اکنامک زون پر تیز رفتاری سے کام شروع کرنے کیلئے تمام تر معاملات کو جلد حتمی شکل دی جا رہی ہے، رشکئی صوبہ خیبر پختونخوا کا وسط ہے اور موٹروے سے منسلک ہے اس لئے یہ منصوبہ پورے صوبے کیلئے یکساں اہمیت رکھتا ہے اور یہاں سے صوبے کے دیگر علاقوں کیلئے روزگار اور صنعتی ترقی کی راہیں ہموار ہوں گی۔

سی پیک حکام نے کہا کہ صوبے میں رشکئی سپیشل اکنامک زون کے علاوہ حطار اکنامک زون اور ڈی آئی خان اکنامک زون پر تیز تر عمل درآمد سے معاشی احیا ہو گا۔ اس کے علاوہ صوبے کے مختلف اضلاع میں17 انڈسٹریل زون قائم کرنے کی منصوبہ بندی ہے جس سے صوبے کو صنعتی اور معاشی طورپر بہت تقویت ملے گی۔ؔ

واضح رہے کہ سوموار کو پاکستان اور چین نے رشکئی اقتصادی زون کی تعمیرو ترقی کیلئے معاہدے پر دستخط کیے ہیں، اس موقع پر وزیر اعظم عمران خان اور پاکستان میں چین کے سفیر یائو جنگ بھی موجود تھے۔

ادھر سی پیک سیکرٹریٹ کے حکام کا کہنا ہے کہ  گوادر میں متعدد ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے جن میں گوادر ایسٹ بے ایکسپریس وے، گوادر انٹرنیشنل ایئر پورٹ،  گوادر فری زون، پینے کے صاف پانی کا منصوبہ، پاک چین دوستی ہسپتال، ووکیشنل انسٹیٹیوٹ، گوادر سمارٹ سٹی جیسے منصوبے شامل ہیں۔

سی پیک سیکریٹریٹ کے حکام کے مطابق چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے سے بلوچستان کی معیشت میں بہتری آئے گی، اقتصادی زونز کے قیام سے مقامی صنعت ترقی کرے گی اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ سی پیک میں بلوچستان کو کلیدی اہمیت حاصل ہے، بلوچستان میں سی پیک کے تحت بہت سے منصوبوں پر کام ہو رہا ہے۔ سی پیک کے تحت بلوچستان میں اقتصادی زونز قائم کئے جا رہے ہیں جن سے اقتصادی شعبے میں بہتری سے مقامی صنعتوں کو فروغ ملے گا اورمقامی لوگوں کے لئے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

انہوں نے بتایا کہ چین پاکستان کے دور دراز علاقوں میں خاص طور پر بلوچستان میں سماجی خدمات کو اپ گریڈ کرنے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ سی پیک منصوبے سے بلوچستان کا نقشہ بدل جائے گا بلکہ ترقی و خوشحالی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here