اہل فکر و دانش منافع کی حد طے کرنے پر غور کریں: صدر ملکت

پاکستان میں اسلامی بینکاری نظام کے فروغ کے لئے سنجیدہ کوششیں ہو رہی ہیں، اسلامک فنانسنگ کی بنیاد صرف لین دین پر نہیں بلکہ صلہ رحمی پر ہے: عارف علوی کا گلوبل اسلامک فنانس ایوارڈز کی تقریب سے خطاب

219

اسلام آباد: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ پاکستان میں اسلامی بینکاری نظام کے فروغ کے لئے سنجیدہ کوششیں ہو رہی ہیں، اسلام کسی بھی شعبے میں استحصال کی اجازت نہیں دیتا، صرف منافع کمانا ہی ترجیح نہیں ہونا چاہیے۔

ان خیالات کا اظہار صدر مملکت نے پیر کو 10 ویں گلوبل اسلامک فنانس ایوارڈز کی تقریب سے مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

صدر مملکت نے کہا کہ دنیا بھر میں اسلامی بینکاری اور مالیاتی نظام کو وسعت مل رہی ہے، پاکستان میں اسلامی بینکاری کے نظام کے فروغ کے لئے بھی سنجیدہ کوششیں ہو رہی ہیں اور ملک میں 17 فیصد بینکاری اسلامی قوانین کے مطابق ہو رہی ہے تاہم اسلامک فنانسنگ کا حصہ گلوبل فنانسنگ میں کم ہے۔

انہوں نے کہا کہ سٹیٹ بینک اور دیگر ادارے اسلامی بینکاری کو ترقی دینے کے لئے کوشاں ہیں، عوام میں بھی اس حوالے سے کافی آگاہی پائی جاتی ہے، گو کہ اس شعبے میں کافی کام کیا گیا ہے لیکن یہ ایک وسیع شعبہ ہے جس میں بہتری لانے کے لئے کوششیں کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کووڈ۔19 کی صورت میں بینکاری نظام کے اوپر بہت دباﺅ آیا اور مالیاتی منڈیوں کے لئے یہ ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آیا ہے۔

صدر کا کہنا تھا کہ صرف لین دین اسلامک فنانسنگ کی بنیاد نہیں بلکہ اسلامک فنانسنگ کی بنیاد صلہ رحمی پر ہے، حکومت کے احساس پروگرام کی بنیاد بھی اسی پر رکھی گئی ہے، اسلام ایک ایسے معاشرے اور مالیاتی نظام کا خواہاں ہے جہاں معاشرتی انصاف، مساوات، برابری اور شفافیت موجود ہو، سماجی اور معاشی ترقی کے لئے دولت کی منصفانہ تقسیم ضروری ہے۔ کاروبار ی سرگرمیوں میں منافع کے ساتھ اخلاقیات کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اسلام کسی بھی شعبے میں استحصال کی اجازت نہیں دیتا، اسلامی معاشرے میں ایلیٹ ازم بڑھنے کا کوئی تصور نہیں، ایلیٹ ازم معاشروں کو گھن کی طرح کھا رہا ہے، تعلیم کا شعبہ بھی اس کا شکار ہے، اسلام کی آمد نے عرب کے ایلیٹ کلچر کو چیلنج کی اور انسانوں کی برابری کا تصور دیا۔

صدر مملکت نے کہا کہ کاروباری اداروں کو صرف منافع کمانے کے اصول پر کام نہیں کرنا چاہیے، ناانصافی معاشرے میں خرابی پیدا کرتی ہے جس کی اسلام اجازت نہیں دیتا، اسی طر ح جو کاروبار معاشرے کے لئے مفید نہیں اس کی بھی اسلام اجازت نہیں دیتا۔

صدر مملکت نے منافع کی حد کے حوالے سے بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ اہل فکر و دانش کو اس پر غور کرنا چاہیے۔ اسلام معاملات کو ہمدردی سے چلانے اور کمزروں کا خیال رکھنے کی ضرورت پر دیتا ہے۔ خواتین اور کمزور طبقات کے لئے بینکنگ سہولیات میں اضافہ کیا جائے، بالخصوص ڈیجیٹل اکانومی کے ذریعے بھی انہیں مستفید کیا جائے۔

انہوں نے علمائے کرام پر زور دیا کہ خواتین کو با اختیار بنانے اور وراثت کے حوالے سے ان سے انصاف کرنے کے لئے آگاہی پیدا کریں۔ اسلام اور ریاست مدینہ کی روح یہ ہے کہ غریب کو ترقی کے مواقع فراہم کئے جائیں جبکہ دیگر معیشتوں کا تصور مختلف ہے، ریاست مدینہ کے اس تصور کی جانب پیشرفت کے لئے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here