مالاکنڈ، ہزارہ ڈویژن میں سیلاب سے 25 فش فارم تباہ، لاکھوں کی مچھلی بہا لے گیا

بد ترین سیلابی صورتحال کے باعث درجنوں فش فارمز تباہ، ہزاروں کلو مچھلی ضائع ہوگئی، فارم مالکان نے حکومت سے معاشی پیکج کا مطالبہ کردیا

60

پشاور :  شدید بارشوں کے باعث مالاکنڈ ڈویژن میں سیلاب سے 25 سے زائد فش فارمز تباہ، دس ہزار کلو گرام مچھلی بھی ضائع ہوگئی۔

 تباہ ہونے والے مچھلی فارمز کے مالکان کا پرافٹ سے گفتگو میں کہنا تھا کہ سیلابی ریلے کے باعث لاکھوں روپے کا انفراسٹرکچر اور مچھلی بہہ گئی ہے۔

نقصان کے باعث ان فارمز میں کام کرنے والے ملازمین کو بھی نوکریوں سے ہاتھ دھونا پڑا ہے اور ٹراؤٹ مچھلی کے فارم میں سیلابی پانی داخل ہونے سے اس کی زندگی کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے فارم مالکان مچھلی کو وقت سے پہلے اور سستے داموں فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔

یہ بھی پڑھیے:

سیاحت کھلنے سے سوات کی سوغات ’ٹراﺅٹ مچھلی ‘ کے کاروبار میں تیزی

پنجاب میں جھینگے کی پیداوار کا پائلٹ پراجیکٹ شروع، حکومت سبسڈی دے گی

صوبائی حکومت نے گزشتہ دو سالوں میں مالاکنڈ اور ہزارہ ڈویژن میں ٹراؤٹ مچھلی کی پیداوار میں اضافے کے لیے اربوں روپے کی لاگت سے درجنوں فش فارمز تیار کیے تھے مگر سیلاب کی وجہ سے ان میں سے بیشتر کو نقصان پہنچا ہے اور حکومت اور این جی اوز کے تعاون سے ان کی مرمت کی جارہی ہے۔

سوات کے فشریز ڈیپارٹمنٹ کے مطابق یہ ضلع صوبے میں مچھلی کی پیدوار میں سب سے آگے ہے اور یہاں 25 اقسام کی مچھلیاں پائی جاتی ہں تاہم ان میں سب سے زیادہ پسند ٹراؤٹ مچھلی کو کیا جاتا ہے۔

مگر شہر میں سیلاب کی وجہ سے ٹراؤٹ مچھلی کے فارمز کو شدید نقصان پہنچا ہے اور صورتحال کے پیش نظر فارم مالکان نے تباہ حال فارمز کی بحالی کے لیے حکومت سے معاشی پیکج کا مطالبہ کردیا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here