’خواتین کو آرام دہ سفری سہولت کی فراہمی کیلئے خصوصی ڈیزائن کردہ الیکٹرک تھری ویلر متعارف کرائی جائیں گی‘

سو فیصد برآمدی ایگریکلچر متعارف کرانے کیلئے 500 ٹیکنالوجی بیسڈ فارمز قائم کئے جائیں گے: وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی چوہدری فواد حسین

226

اسلام آباد: وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ ای وہیکل پروجیکٹ کے تحت خواتین کو محفوظ اور آرام دہ سفری سہولت کی فراہمی کیلئے بجلی سے چلنے والی خصوصی ڈیزائن کردہ تھری ویلر متعارف کی جائیں گی۔

سویڈش کمپنی نے پاکستان میں اپنے یونٹس قائم کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے، اس سلسلے میں کمپنی کیساتھ بات چیت جاری ہے۔

وفاقی وزیر نے سرکاری خبر ایجنسی کو انٹرویو میں کہا کہ یہ تھری ویلرز دلکش سرخ اور پیلے رنگوں میں دستیاب ہونگے جو خواتین کے پسندیدہ رنگ ہیں۔ ان تھری ویلرز میں ائر کنڈیشنر، وائی فائی اور جی پی ایس کی سہولتیں بھی ہونگی۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں ملازمت پیشہ یا تعلمی اداروں جانے والے طالبات اور خواتین کو اکثر سفری مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان الیکٹرک تھری ویلرز کی دستیابی سے خواتین کے سفر سے متعلق مسائل بہت حد تک حل ہو جائینگی۔

چوہدری فواد نے کہا کہ اس کے علاوہ پاکستان اور چین کے درمیان سٹریٹجک الائنس کے تحت پاکستان میں الیکٹرک وہیکل ویلیو چین بھی قائم کیا جائیگا، اس منصوبے میں ابتدائی طور پر 50 ملین ڈالر کی سرمایہ ہو گی جبکہ دوسرے مرحلے میں ملکی سطح پر الیکٹرک بسوں کی تیاری کا آغاز ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ عالمی آلودگی میں 25 فیصد حصہ ٹرانسپورٹ سیکٹر کا ہے اور ٹرانسپورٹ سیکٹر کی بجلی پر منتقلی سے ماحولیاتی آلودگی میں بڑی حد تک کمی آئیگی۔

زرعی ترقی کے حوالے سے وفاقی وزیر نے کہا کہ سو فیصد برآمدی ایگریکلچر متعارف کرانے کیلئے 500 ٹیکنالوجی بیسڈ فارمز قائم کئے جائیں گے۔ 2، پانچ اور 12.5 ایکڑ فارمز ڈرون، واٹر سنسرز، کیڑے مار ادویات، پیکجنگ فسیلٹی، بیج سمیت ٹیکنالوجی پیکجز دیئے جائیں گے۔

اس اقدام کے دوسرے مرحلے میں کسانوں کیلئے کارپوریٹ لائیو سٹاک فارمز کو ترقی دی جائیگی۔ پاکستان حلال اتھارٹی بھی قائم کر دی گئی ہے جو اسلامی طریقے سے ذبح شدہ معیاری گوشت کی فراہمی کو یقینی بنائی گی۔

چوہدری فواد حسین نے سائنس ٹیکنالوجی انجینئرنگ میتھمٹکس (ایس ٹی ای ایم) منصوبے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے کے تحت پہلے مرحلے میں 440 سکول ایس ٹی ای ایم سکولوں میں تبدیل کر دینگے۔ ایک لاکھ طلبا کو گریڈ گیارہ سے گریڈ بارہ تک سالانہ ایس ٹی ای ایم ایجوکیشن دی جائیگی۔

انہوں نے کہا کہ عظیم سائنسداں ڈاکٹر عبداسلام نے 1960 میں پاکستان کے خلائی پروگرام کا آغاز کیا تھا، 1963میں جب پاکستان نے پہلا راکٹ ’رہبر‘ خلا میں بھیجا تو سویت یونین کے بعد پاکستان یہ کامیابی حاصل کرنے والا ایشاء کا دوسرا ملک تھا جبکہ بھارت سمیت کئی ممالک اس وقت خلائی دوڑ میں شامل بھی نہیں ہوئے تھے۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ 1971ء سقوط ڈھاکہ اور پھر افغانستان کی صورتحال کے باعث مشترکہ سول اور ملٹری ریسرچ کا فقدان ہماری سٹریٹجک غلطی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہم الخالد ٹینک تیار کر سکتے ہیں لیکن اپنی کاریں نہیں تیار کر سکتے۔

پاکستان ان گنے چنے ممالک میں شامل ہے جو چین کیساتھ پارٹنرشپ کے تحت جے ایف تھنڈر جنگی طیارے تیار کر رہا ہے جس کے 70 فیصد الیکٹرونکس مقامی سطح پر تیار ہو رہے ہیں لیکن اپنا موبائل یا کار نہیں بنا سکتے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here