کراچی میں انفراسٹرکچر کی تعمیر کیلئے 10 ارب ڈالر کی ضرورت ہے: عالمی بینک

کراچی قدرتی اور انسانی مداخلت سے پیدا ہونے والی آفات کا مقابلہ کرنے میں کمزور، بنیادی ڈھانچہ کے مسائل کے حل کیلئے سرکاری شعبہ میں مختص فنڈز ناکافی

119

اسلام آباد: عالمی بینک نے کہا ہے کہ کراچی میں بنیادی ڈھانچہ کی ضروریات، خدمات کی فراہمی، اربن ٹرانسپورٹ، نکاسی آب، پینے کیلئے صاف پانی کی فراہمی اور صفائی کے نظام کو بہتربنانے کیلئے آئندہ ایک عشرہ میں 9 سے لیکر10 ارب ڈالر کی ضرورت ہے۔

یہ بات پاکستان میں عالمی بینک کے کنٹری ڈائریکٹرناجی بن حسائن نے سماجی رابطہ کی ویب سائیٹ ٹوئٹرپر جاری اپنے ایک بیان میں کہی ہے۔

انہوں نے اس ضمن میں عالمی بینک کی مرتب کردہ 131 صفحات پر مشتمل رپورٹ کا حوالہ بھی دیا جس میں کراچی میں بنیادی ڈھانچہ کی ضروریات ومسائل، شہریوں کو بنیادی خدمات کی فراہمی، اربن ٹرانسپورٹ، نکاسی آب، پینے کیلئے صاف پانی کی فراہمی، سینی ٹیشن اور کچرے کی صفائی و فضلہ کو ٹھکانے لگانے سے متعلق مسائل، ان کے حل اور اس ضمن میں بنیادی ڈھانچہ کی تعمیرسے متعلق مسائل، حل اور طریقہ ہائے کار کا تفصیل سے احاطہ کیا گیا ہے۔

ناجی بن حسائن نے کہا کہ عالمی بینک کا اندازہ ہے کہ 160 ملین سے زیادہ آبادی والے شہر میں بنیادی ڈھانچہ کی ضروریات، خدمات کی فراہمی، اربن ٹرانسپورٹ، نکاسی آب، پینے کیلئے صاف پانی کی فراہمی اور کچرے کی صفائی کے نظام کو بہتربنانے کیلئے آئندہ ایک عشرہ میں 9 سے لیکر10 ارب ڈالر کی معاونت کی ضرورت ہے۔

عالمی بینک کی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کراچی میں بنیادی ڈھانچہ کے مسائل کے حل کیلئے سرکاری شعبہ میں مختص فنڈز ناکافی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق کراچی اور سندھ کے شہری علاقوں میں غیرمنقولہ جائیداد سے حاصل کردہ پراپرٹی ٹیکس عالمی سطح پر شہری علاقوں میں حاصل کردہ ٹیکس محصولات کے مقابلے میں بہت کم ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ میٹروپولیٹن شہر میں بنیادی ڈھانچہ کی تعمیر کیلئے پراپرٹی ٹیکس کی شرح میں اضافہ کرنا ضروری ہے۔

 رپورٹ کے مطابق کراچی قدرتی اور انسانی مداخلت سے پیدا ہونے والی آفات کا مقابلہ کرنے میں کمزور ہے، شہر کو فضائی اور ماحولیاتی آلودگی کے مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

رپورٹ میں کراچی میں ٹرانسپورٹ نظام کی کمزرویوں کا بھی احاطہ کیا گیا ہے۔ کراچی میں پبلک ٹرانسپورٹ کا کوئی نظام نہیں اورنہ ہی شہرمیں ٹرانسپورٹ کے حوالہ سے کوئی جامع پالیسی وضع کی گئی ہے، کراچی میں ٹریفک کے مسائل بڑھتے جا رہے ہیں اور شہر کی سڑکوں پر روزانہ سینکڑوں نئی گاڑیوں کا اضافہ بھی ہو رہا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کراچی میں 45 شہریوں کیلئے ایک بس کی سیٹ دستیاب ہے اس کے مقابلے میں ممبئی میں 12 شہریوں کیلئے ایک سیٹ کی سہولت میسر ہے۔ کراچی میں ٹریفک کے مسائل کے حل کیلئے جامع پالیسی اور اداروں کے قیام کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں کراچی میں نکاسی آب اور پینے کیلئے صاف پانی کی فراہمی سے متعلق مسائل کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کراچی کے مسائل کے حل کیلئے سرکاری اورنجی شعبہ کے اشتراک سے مختصر، درمیانی اور طویل المدت اقدامات کی سفارشات پیش کی گئی ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here