حکومت کے ساتھ معاہدہ خطرے میں، آئی پی پیز میں اختلافات پیدا ہوگئے

نجی بجلی گھروں کے دو گروپوں کے درمیان اعتماد کے فقدان کے جنم لینے کے باعث حبکو چیف آئی پی پی ایڈوائزری کمیٹی کی سربراہی سے مستعفی، ان پر حکومت کے ساتھ معاہدے میں تمام آئی پی پیز کے بجائے اپنی کمپنی کے مفاد کے تحفظ کا الزام لگایا جارہا ہے

255

اسلام آباد: بجلی کے نرخوں میں کمی اور ناجائز منافع کمانے والے نجی بجلی گھروں کے احتساب کے معاملے پر حکومت کے ساتھ طے پانے والے معاہدے پر انڈی پینڈینٹ پاور پروڈیوسرز ( آئی پی پیز ) کے درمیان اختلافات پیدا ہوگئے۔

معروف انگریزی روزنامے ڈان میں شائع وہنے والی خلیق کیانی کی خبر کے مطابق آئی پی پیز کے درمیان حکومت کے ساتھ معاہدے پر اختلاف کی بنیاد نجی بجلی گھروں کے دو گروپوں کے مابین اعتماد کی کمی ہے۔

صورتحال کے پیش نظر حبکو کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر خالد منصور نے آئی پی پی ایڈوائزری کمیٹی کے چئیرمین کے عہدے سے استعفی دے دیا ہے۔

اس استعفے کی وجہ انہوں نے چار بجلی گھروں یعنی نشاط پاور لمیٹڈ، نشاط چونیاں پاور لمیٹڈ، لبرٹی پاور اور اٹک جن کی جانب سے ان پر عدم اعتماد کا اظہار بتائی ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

 ملک میں رواں برس بجلی سے چلنےوالی بسوں کی اسمبلنگ شروع ہوجائے گی

بجلی صارفین کو فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کی منتقلی مؤخر کر دی گئی

ڈان کی خبرمیں ایک نجی بجلی گھر سے تعلق رکھنے والے ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ خالد منصور حکومت سے معاہدے میں نجی طور پر بجلی پیدا کرنے والی تمام کمپنیوں کے بجائے صرف اپنی کمپنی کے مفادات کا خیال رکھ رہے تھے۔

اس ذرائع کا ڈان کے رپورٹر کو مزید بتانا تھا کہ حبکو چیف خالد منصور اپنی کمپنی کا منافع ایک ذیلی کمپنی کو منتقل کرکے چھپا رہے تھے اور یہی چیز آئی پی پیز میں دراڑ کی وجہ بنی.

رپورٹ کے مطابق کچھ آئی پی پیز نے نیپرا کو اپنا منافع صفر اور کچھ نے چودہ سے سترہ ارب روپے بتایا۔

حکومت کے ساتھ کیے گئے معاہدے میں یہ بات شامل ہےکہ نیپرا ناجائزمنافع کمانے والے آئی پی پیز کے خلاف کاروائی کرنے کا مجاز ہوگا معاہدے کی اس شق کے نتیجے میں وہ نجلی بجلی گھر جنھوں نے زیادہ منافع ظاہر کیا ہے وہ کڑے احتساب کی زد میں آجائیں گے۔

جب آئی پی پیز سے تعلق رکھنے والے ذرائع سے یہ پوچھا گیا کہ تحفظات کے باوجود انڈی پینڈینٹ پاور پروڈیوسرز نے حکومت کے ساتھ معاہدے پر دستخط کیوں کیے تو انکا کہنا تھا کہ آئی پی پیز پر اس کام کے لیے شدید دباؤ ڈالا گیا تھا۔

انکا مزید کہنا تھا کہ آئی پی پی ایڈوائزری کمیٹی اب حکومت کے ساتھ کیے گئے معاہدے پر عمل کروانا چاہتی ہے مگر یہ نجی بجلی گھروں کااعتماد تیزی کے ساتھ کھو رہی ہے۔

واضح رہے کہ گردشی قرضوں اور بجلی کی قیمت میں کمی کے لیے اگست میں آئی پی پیز اور حکومت کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا تھا۔

جس کے تحت حکومت اور نجلی بجلی گھروں نے ریٹ آف ریٹرن اور لیٹ پیمنٹ سرچارج میں کمی پر اتفاق کیا تھا۔

مزید برآں فریقین تیرہ نکاتی ایم ایو بھی پر بھی دستخط کرچکے ہیں۔

یہ معاہدہ حکومت کی بڑی جیت قرار دیا جارہا تھا کیونکہ اس کے نتیجے میں نہ صرف ریٹ آف ریٹرن میں کمی بلکہ نجی بجلی گھروں کو ڈالر کے بجائے پاکستانی روپے میں ادائیگی پر بھی اتفاق کیا گیا تھا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here