مالی سال 2020ء: پی ایس او کو بعد از ٹیکس 6.5 ارب روپے خسارہ 

221

کراچی: پاکستان سٹیٹ آئل (پی ایس او) کے بورڈ آف مینجمنٹ کا اجلاس 31 اگست 2020ء کو کراچی میں پی ایس او ہاوس میں منعقد ہوا، اجلاس میں جون 2020ء کو اختتام پذیر ہونے والے مالی سال کے دوران کمپنی کی کارگردگی کا جائزہ لیا گیا۔

سپلائی چین پر شدید دبائو کے باوجود مالی سال 2020ء کی تیسری سہ ماہی کے دوران پی ایس او آوٹ لٹس کی یومیہ اوسطاََ فروخت میں 122 فیصد اضافہ ہوا۔ ملک میں فیول بحران کو قابو کرنے کے لئے کمپنی کی جانب سے مئی اور جون کے دوران 8 ہائی سپیڈ ڈیزل اور گیس کے دو اضافی کارگو برآمد کئے گئے۔

مشکل ترین معاشی صورتحال کے باوجود مالی سال 2020ء کے اختتام پر پی ایس او نے مجموعی طور پر کل لکویڈ فیولزکی مارکیٹ میں 44.3 فیصد شیئرزکے ساتھ پاکستان کی پیٹرولیم ڈاون اسٹریم مارکیٹ میں اپنی برتری کو برقرار رکھا۔

گزشتہ سال کے مقابلے میں پی ایس او کے شیئرز میں 1.9 فیصد ہوا، 30 جون 2020ء کو اختتام پذیر ہونے والے مالی سال کے حوالے سے کمپنی نے 6.5 ارب روپے بعد از ٹیکس نقصان رپورٹ کیا ہے جوکہ فی شیئر نقصان 13.8 روپے کے برابر ہے۔

بورڈ کی جانب سے اس معاملے پر غور کیا گیا ہے کہ مالی سال 2020ء کی چوتھی سہ ماہی کے دوران 16.4 ارب روپے کے غیر معمولی نقصان سے نہ صرف پہلی تین سہ ماہی کے دوران کمائے گئے  تین ارب روپے کے منافع پر اثر پڑا بلکہ یہ نقصان مالی سال 2020ء کا مجموعی نقصان ہے۔

بے قابو حالات اور انونٹری نقصان کے باوجود کمپنی موثر انونٹری مینجمنٹ اور ہائی مارجن  پروڈکٹس اور اخراجات کو قابو کرنے کے ذریعے ہونے والے نقصان پر قابو پانے پر کامیاب رہی۔

پی ایس او کے واجبات 185.2 ارب روپے سے کم ہو کر 13.2 ارب روپے رہ گئے ہیں، 30 جون 2020ء کو ختم ہونے والی مدت کے دوران پاور سیکٹر ، پی آئی اے اور ایس این جی پی ایل پر 13.2 ارب روپے واجبات کے باوجود پی ایس او نے نئے کاروباری مواقع کی تلاش کو جاری رکھا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here