’نیلم جہلم سرچارج غیر قانونی، وصولی بند کرنی چاہیے‘

نیلم جہلم وصول کرنے کا نوٹی فکیشن 2008ء سے 2015ء تک تھا، اس کے بعد یہ غیر قانونی ہے: آڈٹ حکام کا پی اے سی کے اجلاس میں جواب

488

اسلام آباد: پارلیمنٹ کی پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے نیلم جہلم منصوبہ مکمل ہونے کے باوجود اب تک سرچارج کی وصولی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اس کی وصولی بند کرنے کی ہدایت کر دی۔

پی اے سی کا اجلاس بدھ کو چیئرمین رانا تنویر حسین کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہائوس میں ہوا جس میں کمیٹی کے ارکان راجہ ریاض احمد، شاہدہ اختر علی، مشاہد حسین سید، سرداریار صآدق سید حسین طارق محمد، علی خان، شیخ روحیل اصغر، حنا ربانی کھر، ریاض فتیانہ، خواجہ شیراز محمود، منزہ حسن ، راجہ پرویز اشرف، ملک عامر ڈوگر اور شیری رحمٰن سمیت متعلقہ سرکاری اداروں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔

اجلاس میں وزارت آبی وسائل کی 2012-13ء کی رپورٹ کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں چیئرمین کمیٹی رانا تنویر حسین نے کہا کہ پی اے سی نے فیصلہ کیا تھا کہ ریگولیٹری اتھارٹیز کابینہ ڈویژن کے تحت کام کرتی ہیں اس لیے ان کا آڈٹ کرانا کابینہ ڈویژن کی ذمہ داری ہے۔

سیکرٹری کابینہ ڈویژن محمد نواز سکھیرا نے کہا کہ کابینہ ڈویژن اس حوالے سے اپنی ذمہ داری پوری کرے گی۔ پی اے سی نے ہدایت کی ریگولیٹری اتھارٹیز کا آڈٹ کرانے کے حوالے سے آڈیٹر جنرل کے ساتھ مل کر لائحہ عمل مرتب کیا جائے۔

رانا تنویر حسین نے کہا کہ محکمانہ آڈٹ کمیٹیوں کے حوالے سے ہدایت کی گئی ہے کہ ان کے باقاعدگی سے اجلاس منعقد کرنا قانونی طور پرلازم ہے۔ وزیر اعظم نے بھی ہدایت کی ہے کہ پی اے سی کے اجلاس ماہانہ بنیادوں پر کرائے جائیں۔

سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ اعجاز نوید نے کہا کہ تمام وزارتوں کے پرنسپل اکاﺅنٹنگ افسران سے کہا ہے کہ وہ آڈیٹر جنرل کے ساتھ بیٹھ کر اپنی اپنی وزارتوں کے ڈی اے سی کے اجلاسوں کا انعقاد کا شیڈول بنائیں، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اس کی مانیٹرنگ کرے گا اور اس کی سہ ماہی رپورٹ پی اے سی کو دیں گے۔

حنا ربانی کھر نے کہا کہ پی اے سی کو جو رپورٹ پیش کی گئی ہے اس کے مطابق کئی وزاروں میں ڈی اے سی کے باقاعدگی سے اجلاس منعقد نہیں کئے گئے، راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ پی اے سی کے سامنے بیس 20 سال پرانے آڈٹ اعتراضات ہیں، ہم اب بھی وہیں کھڑے ہیں جہاں پہلے تھے، اس کا کوئی آﺅٹ آف باکس حل نکلنا چاہیے۔

رکن اسمبلی شاہدہ اختر علی نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد جو وزارتیں صوبوں کو منتقل ہوئیں ان کا ریکارڈ پی اے سی کو فراہم نہیں کیا جاتا، سخت اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ منزہ حسن کا کہنا تھا کہ وزارت مواصلات نے 12 میں سے 11 ڈی اے سی اجلاس کئے ہیں جو قابل ستائش ہے، باقی وزارتوں نے اس کی ضرورت محسوس کیوں نہیں کی۔

اس موقع پر آڈیٹر جنرل نے کمیٹی کو بتایا کہ تمام وزارتوں کو سہ ماہی بنیادوں پر ڈی اے سی کا شیڈول مرتب کرنے کا کہا گیا ہے، پی اے سی کے 1349 ہدایات میں سے صرف 548 پر عملدرآمد کیا گیا ہے، اس طرف زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

سیکرٹری کابینہ ڈویژن کا کہنا تھا کہ ہماری وزارت میں گزشتہ ایک سال میں 29 ڈی اے سی کے اجلاس ہوئے ہیں ، وزارتوں میں یہ اجلاس باقاعدگی سے منعقد ہوں تو گورننس میں بہتری آئے گی۔ تمام ڈی اے سیز کے اجلاسوں کے منٹس پی اے سی میں پیش ہونے چاہئیں۔

پی اے سی کے چیئرمین رانا تنویر حسین نے کہا کہ ڈی اے سی نہ کرانے والی 52 وزارتوں کو مختلف گروپوں میں پی اے سی میں طلب کیا جائے گا۔ سیکرٹری اسٹیبلشمٹ کو پی اے سی نے ہدایت کی کہ وزارتوں کی ڈی ا ے سی کے انعقاد کے حوالے سے باقاعدگی سے مانیٹرنگ کی جائے گی۔

اجلاس کے دوران چیئرمین واپڈا جنرل (ر) مزمل نے بتایا کہ واپڈا کے 2012-13ء کے پرانے کیسز پی اے سی کے سامنے ہیں، ضرورت اس بات کی کہ آڈیٹر جنرل کو ہدایت کی جائے کہ 50 فیصد آڈٹ اعتراضات موجودہ بھی ہونے چاہئیں۔

اس پر چیئرمین پی اے سی نے کہا کہ ذیلی کمیٹیاں زیر التوا آڈٹ اعتراضات جلد از جلد نمٹانے کی کوشش کریں۔ حنا ربانی کھر کی تجویز پر پی اے سی نے فیصلہ کیا کہ زیرالتوا آڈٹ اعتراضات نمٹانے کے حوالے سے انٹرنل اجلاس میں فیصلے کرنا ہوں گے۔

آڈیٹر جنرل نے کہا کہ 2018-19ء مالی سال کی 28 فروری کو رپورٹ صدر مملکت کو ارسال کی تھی، ایوان صدر سے ہمیں بتایا گیا کہ انہوں نے رپورٹ اسمبلی سیکرٹریٹ کو بھجوا دی ہے۔

اجلاس میں نیلم جہلم سرچارج کی عدم ریکوری کے حوالے سے ایک آڈٹ اعتراض کا جائزہ لیتے ہوئے سیکرٹری آبی وسائل نے کہا کہ نیلم جہلم منصوبہ مکمل ہو چکا ہے۔ اس پر سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ اس ماہ کے بل میں بھی یہ سرچارج لگ کر آیا ہے۔ سیکرٹری آبی وسائل نے کہا کہ یہ تجویز ہے کہ نیلم جہلم کی جگہ دیامر بھاشا ڈیم سرچارج کے نام سے لیا جائے، ابھی یہ تجویز منظور نہیں ہوئی۔

ارکان کی طرف سے اٹھائے گئے نکات کے جواب میں چیئرمین واپڈا نے بتایا کہ 2008ء کے نیلم جہلم سرچارج کی مد میں 70 ارب روپے اکٹھے ہوئے، ہم اس تجویز سے اتفاق نہیں کرتے کہ صارفین سے ڈیموں کی تعمیر کے لئے رقم وصول کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ نیلم جہلم منصوبہ بنیادی طور پر 84 ارب کا تھا مگر ڈیزائن میں نظرثانی کے بعد 474 ارب میں مکمل ہوا اور گزشتہ دو سالوں میں 10 ارب یونٹس سے زائد بجلی پیدا کرکے قومی گرڈ میں شامل کر چکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دیامر بھاشا اور مہمند ڈیمز کیلئے بنائے گئے سابق چیف جسٹس کے فنڈ میں 13 ارب روپے جمع ہوئے ہیں اور یہ رقم حکومت اور سپریم کورٹ کی نگرانی میں محفوظ ہے۔

کمیٹی نے ہدایت کی کہ نیلم جہلم منصوبہ مکمل ہونے پر یہ سرچارج ختم کیا جائے۔ سیکرٹری آبی وسائل نے کہا کہ سیکرٹری پاور کو پی اے سی کی ہدایت سے آگاہ کر دیا جائے گا۔ آڈٹ حکام نے کہا کہ 2008ء سے 2015ء تک کے سرچارج حاصل کرنے کا نوٹیفکیشن تھا اس کے بعد یہ غیر قانونی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here