’عدالتوں کی جانب سے دئیے گئے طویل ترین حکم امتناع ٹیکس ریکوری میں بڑی رکاوٹ، 49 ہزار کیس زیرِ التواء‘

پی اے سی کی ایف بی آر کو ریکوریوں کے تمام مقدمات کی تعداد، التواء کی مدت، رقوم کی مالیت اور منافع کی تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت، کمیٹی کے ارکان کا چیف جسٹس سے ملاقات کی خواہش کا اظہار

359

اسلام آباد: پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی (پی اے سی) کی عملدرآمد مانیٹرنگ کمیٹی کے اجلاس میں انکشاف ہوا ہے کہ عدالتوں کی طرف سے طویل حکم امتناع کے باعث کسٹم، انکم ٹیکس اور اِن لینڈ ریونیو کے مجموعی طور پر 565 ارب روپے مالیت کے 49 ہزار مقدمات زیر التواء ہیں۔

پارلیمنٹ کی پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی (پی اے سی) کی عملدرآمد مانیٹرنگ کمیٹی کا اجلاس سوموار کو کمیٹی کے کنوینر سردار ایاز خان کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاﺅس میں ہوا جس میں کمیٹی کے ارکان سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف اور سابق وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف سمیت متلعقہ سرکاری اداروں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔

اجلاس کے آغاز پر کمیٹی کے کنوینر سردار ایاز صادق نے وزارت قانون کے سیکرٹری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر کی اربوں روپے کی انکوائریاں اسلام آٓباد سمیت ملک کے مختلف شہروں میں جوڈیشلِ، اکاﺅنٹنگ اور ٹیکنیکل ممبر کی آسامیاں خالی ہونے کی وجہ سے التواء  کا شکار ہیں۔ اگر کیسوں کی سماعت نہیں ہو گی تو ریکوریاں کیسے ہوں گی۔ ٹریبونل نامکمل ہونے کی وجہ سے سرکاری خزانے کو اربوں  روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔

سیکرٹری قانون خشیع الرحمن نے کہا کہ یہ تقرریاں پبلک سروس کمیشن کے ذریعے ہوتی ہیں، ہم نے 10 آسامیاں پُر کرنے کے لئے درخواست کی تو انہوں نے صرف دو آسامیوں پر تقرری کی، اب ہم نے یہ قانون تبدیل کر دیا ہے، نئے رولز بن رہے ہیں، آئندہ دو ماہ تک تمام آسامیوں پر شفاف انداز میں تعیناتیاں ہو جائیں گی اور ہمیں پبلک سروس کمیشن میں جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

پی اے سی نے ہدایت کی کہ ٹربیونلز میں لگائے جانے والے ججوں کے لئے ٹیکس گزار ہونے کی شرط لازمی رکھی جائے۔

پی اے سی نے وزارت قانون کو ہدایت کی کہ سپریم کورٹ کے رجسٹرار سے ملاقات کو وقت لیا جائے جس میں پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات کے حوالے سے اعلیٰ عدلیہ کو اپنی مشکلات بتائے گی۔

سردار ایاز صادق نے کہا کہ ایف بی آر، پاور اور پٹرولیم سیکٹر سمیت دیگر اداروں کی اربوں روپے کی ریکوریاں عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات کی وجہ سے التوا کا شکار ہیں۔ بعض کیسوں پر 2015ء سے حکم امتناعی ہے، ہم چاہتے ہیں کہ اس حوالے سے خصوصی بینچ تشکیل دیئے جائیں۔

آڈٹ حکام نے کہا کہ عدالتوں میں تقریباً 1100 ارب روپے کی ریکوریوں کے کسیز زیر التواء ہیں، ایف بی آر کی جانب سے بتایا گیا کہ کسٹم، انکم ٹیکس اور اِن لینڈ ریونیو کے مجموعی طور پر 565 ارب روپے کے 49 ہزار مقدمات زیر التواء ہیں۔

پی اے سی نے ایف بی آر کو ہدایت کی کہ عدالتوں میں ریکوریوں کے حوالے سے تمام مقدمات کی تفصیلات پی اے سی کو فراہم کی جائیں اور ساتھ یہ بھی بتایا جائے کہ یہ مقدمات کتنے عرصہ سے زیر التواء ہیں، ان کی مالیت کیا ہے اور اگر یہ رقم بینک میں ہوتی تو اس پر اب تک کتنا منافع بنتا ہے۔

سردار ایاز صادق نے کہا کہ سپریم کورٹ کے رجسٹرار سے درخواست کی جائے کہ ریکوریوں کے حوالے حکم امتناعی 6 ماہ سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے اورسپریم کورٹ کے ذریعے ماتحت عدلیہ کو اس حوالے سے ہدایت کی جانی چاہیے۔

خواجہ محمد آصف نے کہا کہ ایسے ایسے مافیاز ہیں جنہوں نے 4،4 سالوں سے حکم امتناعی لے رکھا ہے۔ عدالتوں سمیت ہم سب اس سلسلہ میں قصور وار ہیں، ملک کا اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔

اس موقع پر ایف بی آر کے چیئرمین نے کہا کہ اس ساری صورتحال کے حوالے سے ہم سپریم کورٹ کے ساتھ رابطے میں ہیں، سپریم کورٹ نے ہمیں بتایا ہے کہ جسٹس عمرعطاء بندیال کی سربراہی میں ایک بینچ مسلسل ٹیکس اور مالیاتی امور کی سماعت کررہا ہے۔

خواجہ محمد آصف نے کہا کہ اس معاملے کو زیر بحث لانے کے لئے قومی اسمبلی میں بحث کے لئے سپیکر کو درخواست کی جانی چاہیے کیونکہ ہم ملک کے ریونیو میں اضافہ چاہتے ہیں۔ ریونیو کی وصولی ہمارے معاشی نظام کے لئے زندگی او موت کی حیثیت رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ سے لوگوں نے پانچ پانچ سال کے حکم امتناعی لے رکھے ہیں جو لوگ ٹیکس نہیں دیتے انہیں سامنے لایا جانا چاہیے کیونکہ ملک کے ساتھ  یہ واردات معیشت کے لئے انتہائی خطرناک ہے۔

پی اے سی نے ایف بی آر کو ہدایت کی کہ کمشنر اور ٹربیونل کی سطح پر زیر التواء ٹیکسوں کے مقدمات کی تفصیلات بھی پی اے سی کو فراہم کی جائیں۔

سردر ایاز صادق نے کہا کہ ہم حکومت اور اپوزیشن سے درخواست کریں گے کہ ریونیو اور ریکوریوں کے حوالے سے قوانین میں ترامیم کی جائیں۔ خواجہ آصف نے کہا کہ میں جسٹس عمر عطاء بندیال کی عدالت میں پیش ہو کر ساری صورتحال بتانے کے لئے تیار ہوں۔

کمیٹی کے کنوینر سردر ایاز صادق نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے کہا کہ ایف بی آر کی طرف سے فراہم کردہ تمام تفصیلات کو مجتمع کر کے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے پی اے سی کی طرف سے ملاقات کی درخواست کی جائے تاکہ ہم انہیں اپنی مشکلات بتا سکیں اور ملک کے ساتھ کھلواڑ کرنے والوں پر ہاتھ ڈالا جا سکے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ عدلیہ اور پارلیمنٹ کو مل کر اس مسئلے کا حل نکالنا چاہیے، ہم تمام جماعتوں کے ارکان پرمشتمل وفد تشکیل دے کر چیف جسٹس سے ملاقات کریں گے اور اس مسئلے کو ہنگامی بنیادوں پر لیا جانا چاہیے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here