میزان بینک چھوٹے کریانہ سٹورز کو فنانسنگ فراہم کرے گا

211

کراچی: میزان بینک لمیٹڈ نے ایم ایس ایم ایز(چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار) کو شریعہ کے مطابق ڈیجیٹل فنانسنگ فراہم کرنے کیلئے فنجا کے ساتھ شراکت داری کا اعلان کیا ہے جو سٹیٹ بینک اور سکیورٹیز اینڈ ایکسچیج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) سے ریگولیٹڈ ملک کا پہلا فن ٹیک ہے۔

کورونا وائرس کی وباء کے دوران صارفین کی بڑی تعداد محفوظ  خریداری کیلئے بڑے گروسری سٹورز کے بجائے قریبی کریانہ سٹورز کو ترجیح دیتی رہی ہے، ان چھوٹے کریانہ سٹورز کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو دیکھتے ہوئے میزان بینک نے ان کی مالی اعانت کا فیصلہ کیا ہے۔

میزان بینک اور فنجا کے درمیان شراکت داری سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار اسلامک فنانسنگ سے فائدہ اٹھا سکیں گے، مالی اعانت کا لین دین ڈیجیٹل اور رئیل ٹائم میں کیا جائے گا اور ایک بار منظور ہو جانے پر فنانسنگ کی رقم میزان سمارٹ والیٹ اکاﺅنٹ میں جمع ہو جائے گی۔

فنجا کا ڈیجیٹل ایکو سسٹم اس عمل کوآسان، کریڈٹ کی تشخیص اور فیصلہ سازی کے نظام کو تیز کرے گا۔ یہ نظام اہلیت کے مختلف مراحل کے ذریعے خطرات کا جائزہ لے کر بینک کے رسک کے معیار پر عمل درآمداور فنانسنگ فراہم کرنے کے فیصلوں کو یقینی بنائے گا جس کے بعد صارفین کو بغیر کسی تاخیر کے اسلامک فنانسنگ فراہم کر دی جائے گی۔

ریٹیلرز اور اس کے نتیجے میں ڈسٹری بیوٹرز کو سہولت فراہم کرنے کیلئے اس شراکت داری سے تمام سپلائی چین ایکو سسٹم کو فائدہ ہو گا۔

فنجا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کثیف شاہد نے اس موقع پر کہا کہ ایک مختصر مدّت میں ہم نے متعدد شہروں میں پانچ ہزار سے زائد تاجروں کے ساتھ کاروباری تعلقات قائم کئے ہیں اور بطور این بی ایف سی (نان بینکنگ فنانشل کارپوریشن ) اس شعبے کو مختصر مدّت کے 500 ملین روپے سے زائد کے قرضے فراہم کئے ہیں۔ اس طبقے سے نہایت مثبت ردعمل آیا ہے جس کے نتیجے میں ایک مضبوط پورٹ فولیو تشکیل پائے گا۔

اس موقع پر میزان بینک کے ڈپٹی چیف ایگزیکٹو آفیسر عارف الاسلام نے کہا کہ میزان بینک کو اس بات کا احساس ہے کہ اس مشکل وقت میں چھوٹے کاروباری طبقے کو بر وقت مالی اعانت فراہم کرنا کتنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ فنجا کے ساتھ شراکت داری سے ہم صارفین کو تیز اور آسان طریقے سے شریعہ کے مطابق فنانسنگ کی سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ملک کے سپلائی چین شعبے کو ترقی دینے کیلئے پیش خیمہ کے طورپر کام کر سکیں گے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here