’کاروباری طبقے کی اکثریت معاشی صورتحال پر مطمئن، مستقبل سے پُر اُمید‘

گیلپ پاکستان نے ملک بھر سے 487 کاروباروں کو اپنے سروے میں شامل کیا جس میں یہ بات سامنے آئی کہ کاروباری افراد کی اکثریت موجودہ صورتحال پر خوش، مستقبل کے حوالے سے پُر اُمید اور ملک کی سمت کے حوالے سے مطمئن ہے

76

کراچی : گیلپ پاکستان کی جانب سے کرائے گئے حالیہ سروے میں کاروباری برادری کی اکثریت نے ملک میں کاروباری صورت حال پر اطمینان اور مستقبل میں مزید بہتری کی اُمید کا اظہار کیا ہے۔

گیلپ پاکستان نے ملک بھر سے 487 کاروباروں کو اپنے سروے میں شامل کیا جس میں یہ بات سامنے آئی کہ کاروباری افراد کی اکثریت موجودہ صورتحال پر خوش، مستقبل کے حوالے سے پُراُمید اور ملک کی سمت کے حوالے سے مطمئن ہے۔

سروے رپورٹ کے نتائج کے مطابق پانچ مں سے چار کاروبار یعنی  81 فیصد  پُر امید ہیں کہ مستقبل میں صورتحال مزید بہتر ہو گی اور اس بات کا اظہار کرنے والے کاروباروں کی تعداد میں رواں سال کے پہلے حصے میں کیے گئے سروے کی نسبت 65 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

سروے میں شامل نصف کارباروں نے موجودہ معاشی و کاروباری صورتحال پر مسرت کا اظہار کیا اور ایسے کاروباروں کی تعداد میں رواں سال کے پہلے حصے میں کیے گئے سروے کی نسبت 66 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔

مزید برآں سروے میں شامل نصف سے زائد کاروباروں کا کہنا تھا کہ ملک کی معاشی سمت درست ہے اور اس رائے کا اظہار کرنے والے کاروباروں کی تعداد سال کے پہلے حصے میں کیے گئے سروے کی نسبت 15 فیصد زائد ہے۔

اس کے علاوہ ہر پانچ میں سے تین کاروباروں نے وفاقی حکومت کی جانب سے کاروباروں کو ریلیف دینے کے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ صوبائی سطح پر خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں کاروباری صورتحال میں بہتری کے سکور میں سب سے زیادہ یعن 35 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

سندھ میں ہر پانچ میں سے چار جبکہ وسطی پنجاب میں ہر چار میں سے صرف ایک کاروبار نے مستقبل کے حوالے سے اُمید کا اظہار کیا۔ اسی طرح سندھ میں ہر تین میں سے دو کاروباروں نے ملک کی معاشی سمت پر اطمینان کا اظہار کیا مگر وسطی پنجاب میں کاروبار اس حوالے سے زیادہ پُراُمید نظر نہیں آئے۔

تاہم کاروباروں میں معاشی صورتحال کے حوالے سے اطمینان کا سکور کراچی بیلٹ میں منفی 55 جبکہ وسطی پنجاب میں منفی 25 فیصد رہا۔

گیلپ رپورٹ کے مطابق پندرہ سال قبل قائم ہونے والی کمپنیوں نے فروخت میں اضافہ ظاہر کیا۔ ہر تین میں سے ایک کمپنی نے فروخت میں 40 سے 60 فیصد تک کمی ظاہر کی جبکہ ہر پانچ میں سے ایک نے فروخت میں 60 سے 80 فیصد کمی کا اظہار کیا۔

تاہم ایک تہائی کاروباروں نے کورونا کے باعث کاروبار متاثر ہونے کا اظہار کیا۔ سروے میں شامل ہر چار میں سے ایک کاروبار نے کورونا وبا کے باعث ملازمین کو نکالنے یا بنا معاوضے کے چھٹیوں پر بھیجنے کا اعتراف کیا۔

ایک سال قبل قائم ہونے والے کاروباروں کی نصف تعداد نے ڈاؤن سائزنگ اور ہر دس میں سے تین کاروباروں نے ملازمین کو نکالنے کا اعتراف کیا۔

ملہک وبا کے دوران تجارتی شعبے کی جانب سے سب سے کم ملازمین کو نوکریوں سے نکالا گیا جس کی شرح سات فیصد ہے جبکہ اس سلسلے میں دوسرا نمبر ان کمپنیوں کا ہے جو کہ چھیالیس سال قبل قائم ہوئیں تھیں۔ ان کی جانب سے ملازمیں کو نکالے جانے کی شرح گیارہ فیصد ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here