دنیا وباء سے نبرد آزما، چین کے صنعتی شعبے کو 85 ارب ڈالر منافع

263

بیجنگ: ایک طرف دنیا کورونا وائرس کی عالمگیر وباء سے نبرد آزما ہے اور معاشی بحران سے نکلنے کیلئے ہاتھ مار رہی ہے دوسری جانب چین تیزی سے وباء کے اثرات سے نکل کر ترقی کی پٹڑی پر گامزن ہے۔

چین کے صنعتی اداروں کے منافع میں جولائی کے دوران 19.6 فیصد اضافہ ہوا جس کی شرح جون 2018ء کے بعد اب تک کی تیز ترین ہے۔

یہ بات اس سمت اشارہ ہے کہ چینی پیداواری شعبہ آہستہ آہستہ کورونا وائرس کی صورتحال سے نکل رہا ہے جو کہ اقتصادی شرح نمو کے لیے نیک شگون ہے۔

چین کے قومی ادارہ برائے شماریات کی رپورٹ کے مطابق جولائی کے دوران صنعتی شعبے کا منافع کے دوران 19.6 فیصد بڑھ کر 589.5 ارب یوآن (85.58 ارب ڈالر) رہا۔

جون 2020ء کے دوران چین کے صنعتی منافع میں 11.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چینی صنعتی شعبے کو جولائی کے دوران مسلسل تیسرے ماہ منافع ہوا جس کی شرح جون 2018ء کے بعد اب تک کی سب سے زیادہ شرح ہے تاہم ماہ جولائی کے دوران کچھ مشکلات بھی سامنے آئیں جن میں سیلاب اور شدید بارشوں کے نتیجے میں پیداواری و کاروباری سرگرمیوں میں تعطل اور بجلی کی طلب میں کمی ہے۔

اس کے علاوہ امریکا کے ساتھ تجارتی کشیدگی کے بھی چین کی معیشت پر منفی اثرات نمایاں ہیں۔

جنوری سے جولائی 2020 (سات ماہ ) کے دوران صنعتی شعبے کا منافع سالانہ بنیاد پر مجموعی طور پر 8.1 فیصد کم ہو کر 3.1 کھرب یوان رہا جبکہ جنوری سے جون تک اس کی شرح نمو میں 12.8 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ جولائی کے دوران سب سے زیادہ بہتری آٹوموبائل اور الیکٹرانکس کے شعبوں میں ہوئی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here