لیز پر حاصل کئے گئے جہازوں کی وجہ سے پی آئی اے کو 10 ارب روپے کا نقصان

پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کا اظہار تشویش اظہار، معاملہ مزید تحقیقات کے لئے نیب کے سپرد، ہیروئن سمگلنگ میں ملوث حاضر سروس ملازم کا معاملہ ایف آئی اے کے سپرد

118

اسلام آباد : قومی اسمبلی کی پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی (پی اے سی) کی ذیلی کمیٹی نے پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز (پی آئی اے ) کی طرف سے 2018-19ء میں ڈرائی لیز پر حاصل کئے گئے جہازوں کی وجہ سے ادارے کو 10 ارب روپے کے نقصان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے معاملہ مزید تحقیقات کے لئے نیب کے سپرد کر دیا ۔

کمیٹی نے ہیروئن سمگلنگ میں ملوث پی آئی اے کے حاضر سروس ملازم کا معاملہ ایف آئی اے کے سپرد کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ اس کی تحقیقاتی رپورٹ جلد از جلد پی اے سی کو فراہم کی جائے۔

جمعرات کو پی اے سی کا اجلاس کمیٹی کے کنوینر راجہ ریاض احمد کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاﺅس میں ہوا جس میں کمیٹی کی رکن سیمی ایزدی سمیت متعلقہ سرکاری اداروں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس سے ایوی ایشن ڈویژن کے 2018-19ء کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا ۔

ایک آڈٹ اعتراض کے جائزے کے دوران پی اے سی کو بتایا گیا کہ 2018-19ء میں پی آئی اے نے ڈرائی لیز پر جو جہاز لئے اس سے ادارے کو 10 ارب روپے کا نقصان ہوا۔ پی اے سی نے اس معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ڈرائی اور ویٹ لیز پر حاصل کئے گئے جہازوں کے معاملے کو مزید تحقیقات کے لئے نیب کے سپر د کر دیا۔

ایک اور آڈٹ اعتراض کے جائزے کے دوران پی آئی اے حکام نے کمیٹی کو بتایاکہ پی آئی اے میں جعلی ڈگری کے حامل 761 ملازمین نکال دیئے گئے ہیں۔ پی اے سی نے اس معاملے کی تحقیقات ایف آئی اے کے سپرد کرتے ہوئے ہدایت کی کہ تحقیقاتی رپورٹ پی اے سی کو فراہم کی جائے۔

آڈٹ حکام نے پی اے سی کو بتایا کہ پی آئی اے نے سمگلنگ میں ملوث ادارے کے ملازمین کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ پی آئی اے حکام نے بتایا کہ ادارے کے 7 ملازمین سمگلنگ میں ملوث پائے گئے جن میں سے 6 کو نکال دیا گیا ہے۔ بعض کو قبل از وقت ریٹائر کر دیا گیا ہے۔

پی اے سی کے استفسار پر پی آئی اے حکام نے بتایاکہ اقبال نامی شخص اب بھی حاضر سروس ہے جسے سمگلنگ کے الزام میں پہلے 2013ءمیں بری کیا گیا پھر ہیروئن کی سمگلنگ کے الزام میں 2020ءمیں اسے پھر بری کر دیا گیا۔ پی اے سی نے ا س معاملے کی مزید تحقیق کے لئے ایف آئی اے کے سپرد کر دیا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here