’رواں سال پاکستان میں الیکٹرک بسیں چلنا شروع ہو جائیں گی‘

تین سال میں برقی بسوں کی مکمل مینوفیکچرنگ مقامی طور پر شروع ہو جائے گی، وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری

390

اسلام آباد: وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ رواں سال پاکستان میں الیکٹرک بسیں چلنا شروع ہو جائیں گی۔

بدھ کو اپنے ایک ٹویٹ میں وفاقی وزیر نے کہا ہے کہ ایک اور وعدے کی تکمیل کی طرف بڑا قدم اٹھاتے ہوئے  ڈائیوو پاکستان اور سکائی وِل کمپنی کے درمیان پاکستان میں الیکٹرک بسیں لانے کا سٹریٹجک الائنس آج ہو گا۔

فواد چوہدری نے کہا کہ رواں سال سے پاکستان میں الیکٹرک بسیں چلنا شروع ہو جائیں گی اور تین سال میں پاکستان میں ان بسوں کی مکمل مینوفیکچرنگ شروع ہو جائے گی۔

یہ بھی پڑھیے: 

پاکستانی کمپنی کا الیکٹرک گاڑیوں کیلئے چارجنگ کی سہولت متعارف کرانے کا اعلان

موٹر سائیکلوں، رکشوں اور بھاری کمرشل گاڑیوں سے متعلق الیکٹرک وہیکل پالیسی منظور

دو وزارتوں میں تنائو کے بعد الیکٹرک وہیکلز پالیسی پر نظرثانی کی منظوری

الیکٹرک وہیکلز پالیسی بن گئی، لیکن کیا پاکستان میں بجلی پر گاڑیاں چلانے کا منصوبہ کامیاب ہو پائے گا؟

بعد ازاں اسلام آباد میں پاکستان اور چینی نجی کمپنیز کے درمیان الیکٹرک وہیکلز ویلیو چین کے حوالے سے سٹریٹجک الائنس معاہدہ پر دستخط کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان جنوبی ایشیا کا پہلا ملک تھا جہاں اپنا موبائل آیا اور اب رواں سال پاکستان ایشیا کا پہلا ملک ہو گا جہاں الیکٹرک بسیں چلیں گی۔

معاہدہ سے پاکستان میں بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کا سلسلہ متعارف ہوگا جس سے فضائی آلودگی کو بھی کم کرنے میں مدد ملے گی، پہلے مرحلہ میں بنیادی ڈھانچہ کی تعمیر میں50 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری ہو گی جبکہ دوسرے مرحلہ میں پاکستان میں اگلے تین سالوں میں بجلی سے چلنے والی بسوں کی تیاری کا کام شروع ہو جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور ہمیں بھی ان تبدیلیوں اور مستقبل کی ٹیکنالوجی کیلئے خود کو تیار کرنا ہو گا۔ موجودہ حکومت نے ماحولیات کی بہتری پر زیادہ توجہ مرکوز کر رکھی ہے اور الیکٹریکل وہیکلز سے آلودگی کم ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں پہلی بار سائنس کے شعبہ میں سول ملٹری انٹر فیس بنایا، آج پاکستان دنیا میں کورونا وائرس سے متعلق مصنوعات برآمد کرنے والا اہم ملک بن گیا ہے، ایسی ٹیکنالوجی پر کام جاری ہے کہ شاید مستقبل میں موبائل بیٹری بغیر چارجنگ کے چلے اور بجلی کی تاریں اور گرڈ سٹیشن بھی ختم ہو سکتے ہیں، مصنوعی ذہانت پر انحصار بڑھ جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ 60ء کی دہائی میں پاکستان روس اور امریکہ کے بعد ایشیاء کا پہلا ملک تھا جس نے سپیس ٹیکنالوجی کی بنیاد رکھی لیکن 70ء اور 80ء کی دہائی میں ہم نے جو سٹرٹیجک غلطیاں کی، اس کی قیمت ہمیں بھگتنا پڑی۔

چوہدری فواد حسین نے کہا کہ زراعت، الیکٹرانک اور کیمیکلز کی ترقی ہماری ترجیحات میں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ توانائی کے شعبہ میں ونڈ اور سولر انرجی پر بھر پور توجہ دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور مصنوعی زہانت سے انقلابی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں پالیسی سازی میں ٹیکنالوجی انوویشن پر توجہ دینا ہو گی۔

فواد چوہدری نے کہا کہ منیب الرحمن یا میرے کہنے سے چاند نے اپنا مدار نہیں بدل لینا، اگر آپ آنکھیں بند کرکے کہیں گے میں نہیں مانتا تو آپ روندے جائیں گے، یہ نہ ہو ہم کسی اور ہی خلا میں باتیں کریں اور پاکستان کے لوگوں کے حالات اور ہی ہوں۔

انہوں نے کہا کہ سندھ اور پنجاب کی حکومتیں اگر توجہ دیں تو ویسٹ مینجمنٹ کو کارآمد بنایا جا سکتا ہے۔ تقریب میں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈی والا اور پاکستان میں چین کے سفیر یاﺅ جنگ نے بھی شرکت کی۔

واضح رہے کہ جون میں اقتصادی تعاون کونسل نے پاکستان میں بجلی سے چلنے والی گاڑیوں سے متعلق پالیسی کی منظوری دی تھی جس کا مقصد بجلی سے چلنے والی ٹو ویلر، تھری ویلر اور بھاری کمرشل گاڑیوں کی ملک کے اندر تیاری کو فروغ دینا تھا۔

مذکورہ پالیسی وزارت صنعت و پیداوار نے انجینئرنگ ڈیویلپمنٹ بورڈ ، وزارت سائنس و ٹیکنالوجی، وزارت موسمیاتی تبدیلی اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کیساتھ مشاورت کے بعد پیش کی تھی۔

اس سے پہلے وزارت موسمیاتی تبدیلی کی جانب سے 2019 میں ایک الیکٹرک وہیکل پالیسی متعارف کروائی گئی تھی جسے اسٹیک ہولڈرز نے مسترد کردیا تھا۔

جس کے بعد متعلقہ وزارتوں نے اس پالیسی پر نظر ثانی کرنے اور ابتداء میں صرف الیکٹرک موٹر سائیکلوں اور رکشوں کے حوالے سے پالیسی بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔

اس پالیسی کے تحت ملک میں الیکٹرک رکشے اور موٹرسائیکل دستیاب ہوں گے تاہم وزارت موسمیاتی تبدیلی نے ان رکشوں اور موٹر سائیکلوں کے پرزوں کی درآمد پر ایک فیصد درآمدی ڈیوٹی لگانے کی تجویز دی تھی اور ایسا ملکی مارکیٹوں میں الیکٹرک رکشوں اور موٹر سائیکلوں کی بہتات کے خدشے کے پیش نظر کیا گیا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here