انسداد بدعنوانی کیلئے نئی ٹیکنالوجیز کا استعمال ناگزیر ، آئی ایم ایف

بدعنوانی کی زیادہ شرح والے ممالک میں صحت، تعلیم اور سماجی بہبود کے شعبے متاثر ہو رہے ہیں

260

اسلام آباد: بین الاقوامی مالیاتی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے کہا ہے کہ بدعنوانی کی زیادہ شرح والے ممالک میں صحت، تعلیم اور سماجی بہبود و تحفظ کے شعبے متاثر ہو رہے ہیں۔

یہ بات بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے مالیاتی امور کے ڈائریکٹر وکٹر گیسپر اور ڈپٹی ڈائریکٹر پاولو ماورو نے اپنے ایک آرٹیکل میں کہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کرپشن کی وجہ سے حکومتیں عوامی مفاد اور استفادہ کیلئے موثر اور شفاف پالیسیاں بنانے میں ناکام ہوتی ہیں جس کی وجہ سے عوامی اعتماد میں کمی آتی ہے نیز جو پیسہ سڑکوں، تدریسی اداروں اور ہسپتالوں پر خرچ ہونا چاہئیے وہ بدعنوان عناصر کی جیبوں میں چلا جاتا ہے۔

انہوں نے اعدادوشمارکے حوالہ سے بتایا ہے کہ جن ممالک میں بدعنوانی کی شرح زیادہ ہے وہاں پر محصولات اکھٹا کرنے کی شرح بھی بہت کم ہوتی ہے کیونکہ ان ممالک میں زیادہ تر پیسہ رشوت اور کک بیکس کی شکل میں استعمال ہوتا ہے۔

اس صورت میں مجموعی معیشت کو اٹھانے کی کوششیں ناکام ہوجاتی ہے، بدعنوانی کی زیادہ شرح والے ممالک میں جی ڈی پی کی شرح سے ٹیکس وصولیوں میں 4 فیصد کم ٹیکس اکھٹا ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کرپشن کی بیخ کنی کیلئے سیاسی عزم اور شفاف اداروں کی تشکیل ضروری ہے، اس کے ساتھ ساتھ ادارہ جاتی اصلاحات، پیشہ وارانہ سول سروس کی تشکیل، اور کرپشن کے تدارک کیلئے نئی  ٹیکنالوجیز کا استعمال بھی ناگزیر ہے۔

 

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here