’سعودی عرب نے پیسے مانگے، نہ ادھار تیل بند کیا، سب قیاس آرائیاں ہیں‘

پاکستان اور چین سی پیک پر پیش رفت جاری رکھیں گے، بھارت جعلی”فلیگ آپریشن“ کا ناٹک رچا سکتا ہے، پاکستان اسرائیل سے متعلق کسی دباو میں آ کر فیصلہ نہیں کرے گا، چین کے خصوصی نمائندہ برائے افغانستان جلد پاکستان آئیں گے، شاہ محمود قریشی کی پریس کانفرنس

255

اسلام آباد: وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ سعودی عرب نے پیسے مانگے ہیں، نہ ادھار کا تیل بند کیا ہے، یہ سب قیاس آرائیاں ہیں، پاکستان کسی دبائو میں آکر اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا، اس سلسلے میں سعودی عرب اور پاکستان میں مکمل یگانگت ہے۔

پیر کو وزارت خارجہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ 5 اگست 2019ء کے اقدامات سے کشمیریوں کے تشخص اور علیحدہ آئینی حیثیت کو پامال کیا گیا۔ ہزاروں کشمیری جوانوں کو غیر قانونی طور پر پابند سلاسل اور کشمیری قیادت کو نظر بند کر دیا گیا ہے جبکہ پابندیاں اور غیر قانونی اقدامات کا تسلسل ایک سال بعد بھی جاری ہے۔ بھارت کی جانب سے کالے قوانین کے نفاز میں اضافہ بھی ہوا ہے۔

انہوں نے عالمی اقتصادی ماہرین کا حوالہ دیتے ہوئے کہ بھارتی اقدامات سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں ایک سال میں پانچ ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہوا۔ بی جے پی سرکار کا کہنا تھا کہ ہم یہ اقدامات کشمیریوں کی بہتری کیلئے اٹھا رہے ہیں لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر یہ اقدامات ترقی یا بہتری کیلئے تھے تو وہاں تو شادیانے بجنے چاہیے تھے، بھارت بتائے ایک سال میں وہاں کتنی سرمایہ کاری آئی؟

انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی 6 پارٹیاں جو پہلے دلی سرکار کی طرف دیکھا کرتی تھیں اب وہ ان سے نالاں ہیں، یہ بڑی تبدیلی ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ چین نے کشمیر پر واضح موقف اختیار کیا، چین نے واضح طور پر بھارت کے 5 اگست کے اقدامات کو مسترد کیا اور واضح کہا کہ مشرقی لداخ میں ہم بھارت کے موقف کو تسلیم نہیں کرتے۔ چین نے سی پیک پر اٹھنے والے شکوک و شبہات کو بھی مشترکہ اعلامیہ میں مسترد کر دیا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ کشمیر سے متعلق بیانئے کو اب دنیا تسلیم نہیں کرتی۔ انٹرنیشنل کرائسز گروپ کشمیریوں کی جدوجہد کو مقامی سیاسی مزاحمت سے تعبیر کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے جعلی فلیگ آپریشن کا ناٹک رچا سکتا ہے۔ سلسلے میں اپنے مختلف مراسلوں میں جنرل سیکرٹری اقوام متحدہ اور صدر سلامتی کونسل کو بھارتی عزائم سے باخبر کر چکا ہوں۔

سی پیک کے حوالے سے وزیر خارجہ نے کہا کہ سی پیک پر پاک چین موقف واضح ہے، بھارت جو مرضی کہتا رہے، سی پیک پر پیش رفت جاری رکھیں گے۔ اس منصوبے سے پورے خطے کو فائدہ ہو گا۔ علاقائی روابط بڑھیں گے بیشک تنقید ہوتی رہے پاکستان اور چین اپنا سفر جاری رکھیں گے۔

افغانستان کے حوالے سے وزیرخارجہ نے کہا کہ ہماری خواہش ہے کہ انٹرا افغان مذاکرات کا آغاز جلد از جلد ہو اور وہاں امن  و استحکام قائم ہو جائے۔ ہم افغانستان کی خود مختاری کو تسلیم کرتے اور افغانستان کے ساتھ برادرانہ تعلقات چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان مصالحتی کوششوں میں سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے، اپنے مستقبل کا فیصلہ افغان عوام اور حکومت نے خود کرنا ہے۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ چین کے خصوصی نمائندہ برائے افغانستان جلد پاکستان آئیں گے۔ افغانستان کی بڑی اکثریت کا موقف ہے کہ افغانستان کی ترقی میں پاکستان اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

اسرائیل کو تسلیم کرنے سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کسی دباو میں آ کر فیصلہ نہیں کرے گا، اس سلسلے میں سعودی عرب اور پاکستان میں مکمل یگانگت ہے، سعودی عرب نے پیسے مانگے ہیں اور نہ ہی ادھار کا تیل بند کیا ہے، یہ سب قیاس آرائیاں ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here