سعودی عرب ، نجی اداروں میں انجینئرنگ کی 20 فیصد اسامیاں سعودیوں کے لیے مختص

20 فیصد سعودائزیشن کا فیصلہ سعودی عرب کے ان تمام نجی اداروں پر نافذ ہو گا جن میں پانچ  یا اس سے زیادہ انجینئر کام کر رہے ہوں، مزید 9 تجارتی شعبوں میں سعودائزیشن کے لیے دی گئی مہلت ختم 

170

ریاض: سعودی وزیر افرادی قوت و سماجی بہبود انجینئر احمد الراجحی نے نجی اداروں میں انجینئرنگ کی 20 فیصد اسامیاں سعودیوں کے لیے مختص کی ہیں۔ یہ فیصلہ سعودی شہریوں کو بڑے پیمانے پر روزگار دلانے کی قومی مہم کے تحت کیا گیا ہے۔

وزارت افرادی قوت سرکاری اداروں اور سعودائزیشن کے نگراں اداروں کے تعاون و اشتراک سے پیشہ ورانہ ڈگریاں رکھنے والے سعودیوں کو مناسب روزگار دلانے کے پروگرام پر عمل کررہی ہے۔

اس کے علاوہ سعودی وزارت افرادی قوت و سماجی بہبود کی جانب سے مزید 9 تجارتی شعبوں میں سعودائزیشن کے لیے دی گئی مہلت ختم ہونے کے بعد تفتیشی کارروائیوں کا آغاز کر دیا گیا۔

ریاض ریجن میں وزارت افرادی قوت کی تفتیشی ٹیموں نے ایک ہی دن میں مارکیٹوں کے 168 دورے کیے اس دوران سات چالان کیے جبکہ 111 دکانوں اور تجارتی اداروں کو انتباہی نوٹس جاری کیے گئے۔

جن شعبوں میں وزارت کی جانب سے 70 فیصد سعودائزیشن کا فیصلہ کیا گیا ہے اس سے مقامی مارکیٹ میں 25 ہزار سے زائد سعودیوں کو روزگار کے مواقع میسر آئیں گے جس سے بے روزگاری کی شرح میں کمی ہو گی۔

ان شعبوں میں چائے ، کافی ، شہد مصالے ، چینی ، پانی و مشروبات، سبزیاں ، پھل ، پھول پودے اور زراعی مصنوعات فروخت کرنے والی دکانوں کے علاوہ اسٹیشنری، گفٹ شاپس، دستکاری کا سامان ، کھلونے ، پلاسٹک کی مصنوعات ، صفائی کی اشیافروخت کرنے والی دکانیں شامل ہیں۔

دوسری جانب سعودی انجینئر احمد سلیمان الراجحی نے تمام سرکاری اداروں میں عوامی شعبے سے متعلق ملازمین کو ہدایت کی ہے کہ 30 اگست 11 محرم سے اداروں میں محتاط رہتے ہوئے ڈیوٹی کا آغاز کیا جائے۔

وزیر افرادی قوت کی جانب سے جاری بیان کے حوالے سے مزید کہا ہے کہ دفتروں میں کام کا آغاز مرحلہ وار ہو رہا ہے تاہم حاضری کے لیے فنگر پرنٹ سسٹم معطل رکھا جائے۔ کارکنوں کی صحت کا خیال رکھتے ہوئے کام کی جگہ مناسب ہو تاکہ کارکنوں کو کسی قسم کا اندیشہ لاحق نہ ہو۔

وزیر افرادی قوت کی جانب سے جاری ہدایات میں مزید کہا گیا ہے کہ کورونا وائرس سے بچاو کےلیے مقررہ ایس او پیز پر عمل کو بھی یقینی بنایا جائے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here