حکومت نے ملک کے بڑے ہوائی اڈے آؤٹ سورس کرنے پر کام شروع کردیا

مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد کی سربراہی میں قائم کمیٹی نے اس حوالے سے سفارشات پیش کردیں، سول ایوی ایشن اتھارٹی کے اختیارات کم کرکے پاکستان ائیرپورٹس اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا جائے گا، آؤٹ سورسنگ کی صورت میں ہوائی اڈوں کی زمین کی ملکیت اور فلائٹ آپریشن کا کنٹرول ریاست کے پاس ہی رہے گا

358

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے ملک کے بڑے ہوائی اڈوں کو آؤٹ سورس کرنے پر غور شروع کردیا۔

ذرائع کا پرافٹ اردو کو بتانا تھا کہ اس حوالے سے  مشیر برائے تجارت و سرمایہ کاری عبد الرزاق داؤد  کی سربراہی میں قائم کمیٹی  نے وزیراعظم عمران خان کو رپورٹ پیش کردی ہے۔

معاملے کی حساس نوعیت کی بدولت اس کمیٹی نے وزیراعظم عمران خان کو دو الگ اتھارٹیز یعنی پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی اور پاکستان ائیرپورٹس اتھارٹی کے قیام کی تجویز دی ہے۔

پاکستان سول ایوی ایشن سول ہوا بازی کے شعبے میں ریگولیٹر کا کام کرے گی جبکہ پاکستان ائیر پورٹس اتھارٹی ہوائی اڈوں کے کمرشل معاملات کی ذمہ دار ہوگی ۔

یہ بھی پڑھیے:

نئی ویزہ پالیسی جاری، 48 ممالک کے شہریوں کو ائیرپورٹ پر ہی ویزہ کی سہولت حاصل ہوگی

ذرائع کا بتانا تھا کہ سول ایوی ایشن کے امور کو علیحدہ کرنے کی منظوری سول ایوی ایشن بورڈ سے لی جائے گی اور ہوائی اڈوں کو آؤٹ سورس کرنے کا کام دو مرحلوں میں کیا جائے گا۔

پہلے مرحلے میں ائیرپورٹس کو کارپورٹرائزڈ کیا جائے گا تاکہ سرمایہ کاروں کو متوجہ کیا جاسکے اور دوسرے میں نجکاری کمیشن کے ذریعے ٹرانزیکشن عمل میں لائی جائے گی جس کے لیے مالیاتی مشیر یا سرمایہ کاری بنکنگ فرم کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔

ائیرپورٹس کی آؤٹ سورسنگ کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہوائی اڈوں کو  بھارت یا اسرائیل جیسے ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد کے حوالے نہیں کرنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے:

پی آئی اے کا غیر ملکی جہازوں اور ہوابازوں کی مدد سے برطانیہ کے لیے پروازیں چلانے کا اعلان

پرافٹ اردو کو حاصل ہونے والی دستاویزات کے مطابق 1960 کے سول ایوی ایشن آرڈیننس کو سول ایوی ایشن بل 2020 سے تبدیل کیا جائے گا جبکہ  1982 کے سول ایوی ایشن اتھارٹی آرڈیننس میں ترمیم کرکے  ائیرپورٹ کے امور اور ہوائی ٹریفک کے کنٹرول کے اختیارات کو ختم کردیا جائے گا۔

مزید برآں پاکستان ائیرپورٹس اتھارٹی کے قیام کی منظوری کے بعد اس حوالے سے بل کی تیاری شروع کی جائے گی اور ہوائی اڈوں اور ٹریفک کی ذمہ داری موجودہ اتھارٹی سے لے کر نئی قائم ہونے والی اتھارٹی کو دے دی جائے گی۔

ذرائع کا بتانا کہ ہوائی اڈوں کی آؤٹ سورسنگ کی صورت میں زمین کی ملکیت اور فلائٹ آپریشن کا کنٹرول ریاست کے پاس ہی رہے گا۔

اس سلسلے میں وزیراعظم عمران خان کو لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے سے بھی آگاہ کیا گیا ہے جس میں ہوائی اڈوں کی آؤٹ سورسنگ کو صرف ائیرپورٹ سروسز جیسا کہ کار پارکنگ جیسے معاملات تک  محدود رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

وزیراعظم کو یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی اپنے 19 فروری  2020 کے حکم نامے میں بھی جناح ائیرپورٹ کراچی کے گرد زمین کو کمرشل مقاصد کے لیے استعمال نہ کرنے کی ہدیات کررکھی ہے۔

ذرائع کا بتانا تھا کہ وفاقی حکومت نے ایوی ایشن ڈویژن کو عدالتی تحفظات دور کرنے کی ہدایت کردی ہے۔

مزید برآں وزیراعظم نے یہ معاملہ کابینہ کی لا کمیٹی کے سامنے پیش کرنے کا بھی کہہ دیا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here