میزان بینک کے مالیاتی نتائج کا اعلان، منافع میں 67 فیصد اضافہ

122

کراچی: میزان بینک لمیٹڈ نے 30 جون 2020ء کو ختم ہونے والی ششماہی کے مالیاتی نتائج کا اعلان کر دیا۔ بینک کو 30 جون 2020ء کو ختم ہونے والی ششماہی میں 11.7 ارب روپے کا بعد از ٹیکس منافع حاصل ہوا جو پچھلے سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں67 فیصد زیادہ ہے۔

بینک کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق مالیاتی نتائج کا اعلان میزان بینک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس کے بعد کیا گیا۔ اجلاس کی صدارت بورڈ کے چیئرمین ریاض ایس اے اے ادریس نے کی جبکہ اس موقع پر بورڈ کے وائس چیئر مین فیصل النصر بھی موجود تھے۔

مالیاتی نتائج کے مطابق بینک کے مجموعی اثاثے 12 فیصد اضافے کے ساتھ تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک کھرب روپے سے زائد (1.26 کھرب) ہو چکے ہیں۔

بورڈ نے 30 جون 2020 کو ختم ہونے والی ششماہی کے لئے 10 فیصد بونس شیئرز کی بھی منظوری دی۔ فارن ایکسچینج آمدنی اور سرمائے میں اضافے کی وجہ سے بینک کی غیر فنڈڈ آمدنی میں 13 فیصد اضافہ ہوا۔

بینک کے انتظامی اور دیگر آپریٹنگ اخراجات گزشتہ سال کے اسی عرصے کے11.7 ارب روپے کے مقابلے میں 14.9 ارب روپے رہے، اخراجات میں ا ضافے کی بنیادی وجہ جون 2019 سے 120 نئی برانچزکا قیام تھا۔

حکومتِ پاکستان کے اجارہ سکوک اور پاکستان انرجی سکوک  IIمیں سرمایہ کاری کی وجہ سے میزان بینک کی سرمایہ کاری 36 فیصد اضافے کے ساتھ  306 ارب روپے ہو گئی۔

30 جون 2020 تک بینک 20.89 فیصد کیپٹل ایڈووکیسی شرح کے ساتھ بہترین کیپٹلائزڈ ادارہ ہے جو کہ کم سے کم ریگولیٹری ضرورت سے 11.50 فیصد زیادہ ہے۔

معاشی سرگرمیوں میں سست روی اور قرضوں سے متعلق بینک کی محتاط پالیسی کی وجہ سے بینک کے فنانسنگ پورٹ فولیو میں گزشتہ سال کے مقابلے میں قدرے کمی واقع ہوئی۔

کورونا وائرس کے پھیلاﺅ کی وجہ سے معیشت کے بعض شعبوں میں دباﺅ کو دیکھتے ہوئے بورڈ نے کسی بھی ممکنہ غیر فعال فنانسنگ کا مقابلہ کرنے کیلئے ایک ارب روپے کی اضافی عمومی فراہمی کی منظوری دی ہے جس سے بینک کے غیر فعال فنانسنگ کوریج کی شرح 129 فیصد ہوگئی ہے جو کہ بینکنگ انڈسٹری میں سب سے زیادہ ہے۔

میزان بینک نے اس ششماہی میں ملک کے 19 شہروں میں 38 نئی برانچز کا آغاز کیا ہے جس کے بعد ملک کے 240 شہروں میں میزان بینک کی 800 سے زائد برانچز قائم ہو چکی ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here