’طورخم بارڈر پر پھنسے تجارتی ٹرک 10دن میں کلئیر کر دئیے جائیں گے‘

91

پشاور: وزیراعظم کے معاونِ خصوصی شہزاد ارباب نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے پیش نظر طورخم بارڈر بند ہونے سے پشاور طورخم ہائی وے پر تجارتی سامان سے لدھی 3300 گاڑیاں پھنس گئی ہیں۔

معاونِ خصوصی شہزاد ارباب کی زیرصدارت خیبرپختونخوا کے اعلیٰ افسران کا ایک اجلاس منعقد ہوا جس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب میں معاونِ خصوصی نے کہا کہ متعلقہ محکموں کو آئندہ 10 روز میں ہائی وے پر پھنسی تمام گاڑیوں کو کلئیر کرانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، منگل تک 700 سے 800 پھنسی گاڑیوں کو کلئیر کرایا جائے گا جبکہ ان گاڑیوں کے خصوصی انتظامات کے لیے پارکنگ ایریاز مختص کیے گئے ہیں۔

شہزاد ارباب نے کہا کہ لنڈی کوتل میں حمزہ بابا کمپلیکس پہلے سے ہی کسٹم ڈیپارٹمنٹ کے حوالے کیا جا چکا ہے جبکہ آئندہ دو سے تین روز میں طورخم کے قریب مزید جگہ فراہم کی جائے گی، اسی طرح، متنی (پشاور) اور کرک میں پھنسی ہوئی گاڑیوں کے لیے بھی مزید پارکنگ مختص کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

پولیس، ضلعی حکام کی رشوت ستانی پر پاک افغان تجارت سے منسلک تاجر پھٹ پڑے

طورخم بارڈر: ڈیوٹی اور ٹیکسوں کی مد میں پاکستان کو بھاری نقصان پہنچائے جانے کا انکشاف

معاونِ خصوصی نے کہا کہ روزانہ کی بنیاد پر 200 کے قریب گاڑیاں کھرلاچی بارڈر سے کلئیر کی جائیں گی جبکہ غلام خان بارڈر کو باہمی معاہدوں کے بعد آئندہ ہفتے تک فعال کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد کابل کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات میں بہتری کا خواہش مند ہے اور باہمی تجارتی حجم کو تین ارب ڈالر تک لے جانا چاہتا ہے۔

انگور اڈا بارڈر سے متعلق بات کرتے ہوئے شہزاد ارباب نے کہا کہ مذکورہ بارڈر کسٹمز سٹاف کی غیرحاضری کی وجہ سے ماضی میں بند کیا گیا تھا۔ تاہم حکومت نے اس سرحدی پوائنٹ کو بھی فعال کرنے کے لیے یہاں کسٹمز اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

’افغانستان میں امن پاکستان میں امن کی ضمانت ہے، کابل میں امن اور ترقی سے پاکستان کو وسطی ایشیائی منڈیوں تک رسائی میں مدد ملے گی جس سے خطے میں ترقی و خوشحالی کا نیا دور شروع ہو سکتا ہے۔‘

شہزاد ارباب نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان تمام دوست ممالک سے تجارتی تعلقات کو مضبوط کرنے کے لیے تمام تر دستیاب وسائل استعمال کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

اس سے قبل کے پی ایڈیشنل چیف سیکرٹری شکیل قادر، ڈپٹی کمشنر محمود اسلم، انڈسٹری سیکرٹری جاوید مروت، کسٹمز کلیکٹر، پولیس افسران اور دیگر محکموں کے نمائندوں نے معاونِ خصوصی کو ممکنہ تجارت اور پاک-افغان تجارت میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے حوالے سے بریفنگ دی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here