اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس، 2 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کی منظوری

عام صارفین کو مناسب نرخوں پر چینی کی فراہمی کیلئے نجی درآمد کنندگان پر سیلز ٹیکس، لیوی اور دیگرڈیوٹیز کو کم کرنے کا فیصلہ

219

اسلام آباد: کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے دو لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کی منظوری دیدی۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس جمعہ کو وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ و محصولات ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔

اجلاس میں ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کو سرکاری شعبہ کے تحت پاسکو کیلئے دو لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کیلئے آرڈرجاری کرنے کی منظوری دی گئی۔

اس سے قبل نجی شعبہ کو بھی پانچ لاکھ ٹن گندم کی درآمد کی اجازت دی گئی تھی۔ اس حوالے سے سیکرٹری قومی غذائی تحفظ و تحقیق نے کمیٹی کو بتایا کہ نجی شعبہ کی جانب سے پانچ لاکھ ٹن گندم درآمد کی پہلی کھیپ 26 اگست کو پاکستان پہنچ جائے گی۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ سات لاکھ ٹن گندم کی درآمد سے آئندہ مہینوں میں ملک میں گندم اور آٹے کی قیمتوں میں اضافہ کے رحجان، گندم کی قلت پر قابو پانے اور ملک میں اشیائے ضروریہ کی ذخیرہ اندوزی کی حوصلہ شکنی ہوگی۔

ای سی سی نے سیکرٹری قومی غذائی تحفظ  و تحقیق اور وفاقی وزیر اقتصادی امور مخدوم خسرو بختیار کو صوبوں کے ساتھ ٹریڈنگ کارپوریشن کو بین الاقوامی سپلائرز کی جانب سے پیش کردہ قیمت پر گندم کی کسی بھی مقدارمیں خریداری کے ضمن میں مشاورت کرنے کی ذمہ داری سونپی کیونکہ جولائی اور اگست کے مہینوں میں عالمی سطح پر گندم کی قیمتوں میں کمی کا رحجان غالب رہا ہے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ حکومت نے پہلے سے ہی ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کو شفاف اور اوپن بین الاقوامی نیلامی پراسیس کے تحت 1.5 ملین ٹن گندم کی درآمد کی اجازت دی ہے تاکہ پنجاب میں 0.70 ملین ٹن، خیبر پختونخوا میں 0.30 ملین ٹن اور پاسکو کے سٹریٹجک ذخائر کیلئے 0.5 ملین ٹن کی ضرورت کو پورا کیا جا سکے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ ملک میں اس وقت گندم کے 26.05 ملین ٹن ذخائر موجود ہیں جن میں 25.457 ملین ٹن نئی فصل سے اور گزشتہ سال سے 0.602 ملین ٹن شامل ہیں جبکہ شارٹ فال 1.411 ملین ٹن ہے۔سرکاری شعبہ میں گندم کی فراہمی کی سطح 6.32 ملین ٹن ہے گزشتہ سال یہ 7.55 ملین ٹن کی سطح پر تھی۔

اجلاس میں ملک میں چینی کے تیزی سے کم ہوتے ہوئے سٹاک، جس میں نومبر 2020ء میں زیادہ کمی کا امکان ہے، کے تناظرمیں نجی درآمد کنندگان کے ذریعہ چینی کی درآمد کی تجویز کا بھی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ عام صارفین کو مناسب نرخوں پر چینی کی فراہمی کیلئے نجی درآمد کنندگان پر سیلز ٹیکس لیوی اور دیگر ڈیوٹیز کو کم کیا جائے گا تاکہ پاکستان پہنچنے پر اخراجات کو کم سے کم کیا جا سکے۔

اجلاس میں کراچی کی بندرگاہوں پر افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کارگو کے ڈیمرج کو ختم کرنے کے ایشو کا بھی جائزہ لیا گیا اور معاملہ کے احسن اندازمیں حل کیلئے وزارت میری ٹائم افئیرز کو پورٹ حکام اور ٹرمینل آپریٹرز کے ساتھ معاملہ اٹھانے کی ہدایت کی گئی۔

اجلاس میں وزارت توانائی (پٹرولیم ڈویژن) کی تجویز پر جامشورو جوائنٹ وینچر لمیٹد اور سوئی سدرن گیس کمپنی کے زائد المعیاد ایگریمنٹ کا جائزہ لیا گیا اور اٹارنی جنرل آفس سے توثیق کی صورت میں جامشورو جوائنٹ وینچر لمیٹد کو ایل پی جی اور ایل این جی کی پیداوار دوبارہ بحال کرنے کی اجازت دیدی تاکہ ملکی ایل پی جی کی پیداوار کی صورت میں اس کی درآمد کو کم کیا جا سکے۔

اجلاس میں وزارت خزانہ کی تجویز پر سٹیٹ بینک کے ڈیویڈنڈ کی فکسیشن کا جائزہ لیا گیا اور 30 جون کو ختم ہونے والے مالی سال 2020ء کے بینک کے سالانہ اکائونٹس میں سٹیٹ بینک کے حصص کے 10 فیصد فیس ویلیو کی بنیاد پر ڈیوڈنڈ فراہم کرنے کی اجازت دیدی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here