حکومت کا ای پورٹل کے ذریعے پالیسی سازوں کو تھنک ٹینکس، اکیڈیمیا کے ساتھ منسلک کرنے کا فیصلہ

69

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پالیسی سازوں کو تھنک ٹینکس اور اکیڈیمیا کے ساتھ منسلک کرنے کے لیے ایک انوویٹو پورٹل جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ملک بھر میں تھنک ٹینکس کو منسلک کرنے اور انہیں حکومت کے تعمیری فیصلوں کے لیے یہ ای پورٹل پالیسی سازی کے عمل کو مؤثر بنانے میں مدد کرے گا۔

وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف نے بدھ کےروز  وزیراعظم آفس میں بورڈ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئےنیشنل سکیورٹی کمیٹی (این ایس سی) کے ایڈوائزری بورڈ کو بحال کیا ہے۔

قومی سلامتی کے معاملات سے متعلق این ایس سی ایک اپیکس فیصلہ سازی کی کمیٹی ہے۔

ایڈوائزری بورڈ نیشنل سکیورٹی کمیٹیز کی ذیلی شاخ ہے جو بڑے تھنک ٹیکنس پر مشتمل ہے، جو این ایس سی کی تجاویز پر غور کرتی ہے، 2018 سے بورڈ نے اجلاس منعقد نہیں کیا۔

اجلاس میں انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی)، انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل سٹڈیز (آئی آر ایس) انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز، ریسرچ اینڈ اینالیسز (آئی ایس ایس آر اے) آف این ڈی یو، اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (آئی پی آر آئی)، سینٹر فار ایروسپیس اینڈ سکیورٹی سٹڈیز (سی اے ایس ایس) کے نمائندوں اور نیشنل سکیورٹی ڈویژن کے سینئر حکام نے شرکت کی۔

اجلاس کے دوران، معید یوسف نے کہا کہ مذکورہ ویب پورٹل حکومت اور اکیڈیمیا کے درمیان خلاء کو کم کرے گا، جو ماضی میں نہیں کیا گیا، حکومت کو اس فیصلے سے بہتر قانون سازی کرنے میں مدد ملے گی۔

“معید یوسف نے کہا کہ “خطے میں پورٹل اپنی نوعیت کا پہلا پورٹل ہے جو حکومت کے قانون سازی کے عزم کو ظاہر کرتا ہے”۔

وہ ملک میں مختلف مشکلات کی ریسرچ اور پاکستان کو درپیش مواقع سے متعلق تھنک ٹینکس کے اہم کردار سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کررہے تھے۔

اجلاس میں شرکاء نے کہا کہ پاکستان میں 100 سے زائد تھنک ٹینکس کام کررہے تھے، لیکن ان سے فائدہ نہیں اٹھایا گیا۔ معاونِ خصوصی نے تصدیق کی کہ نیشنل سکیورٹی ڈویژن اس کو درست کرنے کی خواہش رکھتی ہے۔

وزیراعظم کے ویژن کی وضاحت کرتے ہوئے ڈاکٹر معید یوسف نے کہا کہ وزیراعظم قومی سلامتی کے حوالے سےغریب عوام اور عوام کے حامی کا نظریہ رکھتے ہیں۔

ڈاکٹر یوسف نے کہا کہ قومی سلامتی کا تصور اسکی روایتی سرحدی سکیورٹی پرمشتمل ہے جیسا کہ یہ ہیومن سکیورٹی، عام شہریوں کی فلاح و بہبود، معاشی سکیورٹی اور ماحولیاتی سکیورٹی کے تصور کا احاطہ کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے کئی طرح کی قومی سلامتی کے تمام پہلوؤں کو اجاگر کرنے کے انداز کو اپنایا ہے۔ جبکہ مغرب میں ہمیشہ پاکستان کے لیے غیرمناسب طور پر منفی پہلوؤں کو اجاگر کیا جاتا رہا، حقیقت یہ کہ عام شہری کے لیے حقیقی سلامتی کو حاصل کرنے کے لیےتمام سٹیک ہولڈرز دن رات مل کر کام کر رہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے یہاصل ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here