آئی پی پیز کیساتھ معاہدے سے بجلی سستی ہوگی، سرکاری کمپنیاں بھی نرخ پر نظر ثانی کریں گی: عمر ایوب

آئندہ تین ہفتے میں بجلی کے شعبے میں ہونے والی اصلاحات کو حتمی شکل دیدی جائے گی، اصلاحاتی پیکیج میں سرکاری پاور پروڈیوسرز کے ریٹ پر نظرثانی بھی شامل ہے: پریس کانفرنس

224

اسلام آباد: وفاقی وزیر بجلی و پٹرولیم عمر ایوب خان نے کہا ہے کہ آئی پی پیز کے ساتھ بجلی کی پیداواری لاگت کے حوالہ سے معاہدہ ہو گیا ہے، بجلی پیدا کرنے والی سرکاری کمپنیاں بھی اپنے ریٹس پر نظر ثانی کریں گی۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے بجلی شہزاد قاسم کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ عمر ایوب خان نے کہا کہ بجلی کی لاگت میں کمی حکومتی اصلاحات کا حصہ ہے، ترسیلی نظام کو بہتر بنانے کیلئے بھی اقدامات میں تیزی لائی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ سابقہ حکومتوں نے بجلی کے شعبہ کے مسائل پر کبھی توجہ نہیں دی، ہم نے آئی پی پیز کے ساتھ خوشگوار ماحول میں مذاکرات کئے ہیں اور ملک کے وسیع تر مفاد میں پہلی بار باہمی اشتراک اور ہم آہنگی سے معاملات میں پیش رفت ہوئی ہے۔ 1994ء، 2002ء اور 2006ء کے آئی پی پیز کے معاہدوں پر نظرثانی کی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آئندہ تین ہفتے میں بجلی کے شعبے میں ہونے والی اصلاحات کو حتمی شکل دیدی جائے گی۔ اصلاحات کے پیکیج میں سرکاری پاور پروڈیوسرز کے ریٹ پر نظرثانی بھی شامل ہے۔

عمر ایوب نے کہا کہ بجلی کے شعبے کے گھمبیر مسائل ہمیں ورثے میں ملے، سابقہ حکومتیں ان مسائل کے حل میں سنجیدہ نہیں تھیں، بلوچستان کے ٹیوب ویلز سے سالانہ 44 ارب روپے کی وصولی نہیں ہو پاتی جبکہ اس کے برعکس بلوچستان کا مجموعی سالانہ ترقیاتی پروگرام 80 ارب روپے ہے اور یہ رقم لوگوں کی فلاح و بہبود کیلئے ہم خرچ کر سکتے ہیں جو ضائع ہو جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اصلاحات سے گردشی قرضے میں بھی کمی لائی جائے گی، اپوزیشن اس لئے چیخ رہی ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت ہر شعبے میں کارکردگی دکھا رہی ہے۔

عمر ایوب نے کہا کہ توانائی کے شعبے کی بہتری سے زراعت، صنعت اور چھوٹے کاروبار فروغ پائیں گے۔ آئی پی پیز میں غیر ملکی سپانسرز نے بھی نظرثانی کے معاہدوں پر دستخط کئے ہیں۔ اس کو ہم سراہتے ہیں۔

وزیر توانائی نے کہا کہ وزیراعظم چاہتے ہیں کہ عوام پر بجلی کی قیمت کا بوجھ نہ پڑے، 70 فیصد توانائی ہمیں سابقہ حکومتوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے درآمدی ایندھن سے حاصل کرنا پڑ رہی ہے، 2030ء تک ہم ملکی وسائل سے 70 فیصد بجلی پیدا کریں گے اور اس سے بجلی کی قیمت میں بھی کمی آئے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری تمام تر توجہ توانائی کے شعبے کو بہتر بنانے پر ہے۔ آئندہ دو تین ہفتوں میں توانائی کے شعبے میں ہونے والی اصلاحات اور اب تک کی پیش رفت کے حوالے سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا جائے گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here